دبئی (ایم این این) – ایران سے متعلق بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہونے پر پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کا ایک تنگ دہانہ ہے جو اپنے سب سے تنگ مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر چوڑا ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتا ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے تیل اور گیس لے جانے والے ٹینکر اسی گزرگاہ سے گزرتے ہیں، جن کی بڑی مقدار ایشیائی منڈیوں خصوصاً چین کو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ طویل عرصے کے لیے متاثر ہوا تو قیمتیں بے قابو ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کاری ادارے نیوبرگر برمن کے سینئر منیجر ہاکان کایا کے مطابق ایک یا دو ہفتے کی جزوی رکاوٹ کو مارکیٹ برداشت کر سکتی ہے، لیکن اگر ایک ماہ یا اس سے زیادہ مکمل یا قریب مکمل بندش رہی تو خام تیل کی قیمتیں تین ہندسوں میں جا سکتی ہیں اور یورپی گیس کی قیمتیں دو ہزار بائیس جیسی بحرانی سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔
اگرچہ آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر بند نہیں کی گئی، تاہم جہاز رانی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے گزرگاہ کے دونوں اطراف جہازوں پر حملوں کی تصدیق کی اور الیکٹرانک نظام میں مداخلت کے خطرات سے خبردار کیا۔
عمان کے مطابق خلیج عمان میں مارشل آئی لینڈ کے پرچم بردار آئل ٹینکر پر بارود سے بھری ڈرون کشتی کے حملے میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا۔ ایران پر الزام ہے کہ اس نے گزرگاہ کے قریب آنے والے جہازوں کو دھمکیاں دیں اور متعدد حملے کیے۔
آبنائے ہرمز تاریخی طور پر بھی اہم تجارتی راستہ رہی ہے جہاں سے ریشم، مٹی کے برتن اور دیگر اشیا کی ترسیل ہوتی تھی۔ جدید دور میں یہ عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ بن چکی ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس متبادل پائپ لائنیں موجود ہیں، تاہم امریکی توانائی معلوماتی ادارے کے مطابق زیادہ تر تیل کے لیے کوئی مؤثر متبادل راستہ دستیاب نہیں۔
ماضی میں بھی کشیدگی کے دوران ایران نے اس راستے پر پابندیاں عائد کیں، جن میں فروری کے وسط میں فوجی مشقوں کے نام پر عارضی بندش شامل ہے جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد اضافہ ہوا تھا۔ تاہم مکمل اور طویل بندش کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔
حالیہ کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


