امریکی ویزا فراڈ کیس میں مرکزی ملزم گرفتار، ضمانت منسوخ ہونے پر ایف آئی اے کی کارروائی

0
2

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی تحقیقاتی ادارے نے امریکی ویزا فراڈ کے ایک بڑے کیس میں ملوث مرکزی ملزم کو ضمانت منسوخ ہونے کے بعد گرفتار کر لیا۔ ملزم کو عدالتِ اسپیشل جج سنٹرل اسلام آباد کے احکامات پر حراست میں لیا گیا۔

ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے مطابق گرفتار ملزم الشیخ السید سیف الدین عارفی ولد حافظ محمد اسلم عرف عثمان گیلانی المعروف پیر صاحب ہے۔ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب امریکی سفارت خانہ اسلام آباد کی جانب سے مشتبہ ویزا درخواستوں کے حوالے سے ریفرل موصول ہوا۔

حکام کے مطابق امریکی سفارت خانے نے نشاندہی کی کہ متعدد درخواست گزار جعلی دستاویزات کے ذریعے ویزا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے درخواست گزاروں کو امریکہ میں منعقد ہونے والے مبینہ “فیسٹیول آف صوفی وزڈم” میں شرکت کا جھانسہ دے کر جعلی دعوت نامے، وزارتِ خارجہ کے فرضی خطوط اور دیگر من گھڑت کاغذات فراہم کیے۔

تحقیقات کے مطابق ملزم سادہ لوح شہریوں کو وزٹ ویزا دلوانے کا یقین دلا کر بھاری رقوم وصول کرتا رہا۔ متاثرین سے مجموعی طور پر کروڑوں روپے وصول کیے گئے جبکہ بعض افراد سے پینتالیس لاکھ سے ستر لاکھ روپے تک کے معاہدے طے پائے۔

ملزم خود کو بااثر شخصیت ظاہر کرتا، گولڑہ شریف کے ایک معروف پیر کا قریبی عزیز ہونے کا دعویٰ کرتا اور سرکاری ملازم ہونے کا تاثر دے کر لوگوں کا اعتماد حاصل کرتا تھا۔ اس طرح وہ مذہبی وابستگی اور سماجی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو دھوکہ دیتا رہا۔

مزید تفتیش میں سامنے آیا کہ ملزم نے دو ہزار تیئیس اور دو ہزار چوبیس میں بارہ بارہ افراد پر مشتمل دو گروپس کو بیرون ملک بھجوانے کا دعویٰ کیا۔ وہ دیگر ایجنٹس کے ساتھ مل کر جعلی ڈی ایس ایک سو ساٹھ فارم تیار کرواتا، فرضی دعوت نامے بنواتا اور درخواست گزاروں کو انٹرویو کی تیاری بھی کرواتا تھا۔

ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف پریوینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ دو ہزار اٹھارہ کی دفعات تین، چار اور سات کے تحت جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات چار سو بیس اور چار سو اڑسٹھ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور دیگر سہولت کاروں کے کردار کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

حکام نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ یا مشکوک ایجنٹس سے رابطہ کرنے سے گریز کریں اور بیرون ملک ویزا یا ملازمت کے حوالے سے کسی بھی پیشکش کی تصدیق سرکاری ذرائع سے ضرور کریں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں