ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں پانچ ہفتوں سے زائد بھی جاری رہ سکتی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم امریکہ اس سے کہیں زیادہ طویل مدت تک کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈل آف آنر کی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدا سے چار ہفتوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن اگر ضرورت پڑی تو کارروائی مزید طویل کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس آپریشن کو جاری رکھنے سے “بور” نہیں ہوں گے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل نے ہفتہ کے روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری قیادت کو ختم کرنے کا ہدف مقررہ مدت سے پہلے حاصل کر لیا گیا ہے۔

ایران اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل، خلیجی ممالک اور توانائی کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائیاں کی ہیں، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپنے پہلے عوامی بیان میں ایران پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران مذاکرات کے دوران وقت گزاری کر رہا تھا۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کا مقصد ایران کی بحری صلاحیت کمزور کرنا اور اس کے جوہری و میزائل عزائم کا خاتمہ ہے۔

جنگ کے باعث عالمی فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے وابستہ ایمریٹس اور فلائی دبئی نے محدود پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ابوظہبی میں مصفح فیول ٹرمینل پر ڈرون حملے کے بعد حکام نے آگ پر قابو پا لیا۔ حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹرمینل کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور تنازع کے پھیلاؤ کے خطرات پر بات کی۔ پیوٹن نے سیاسی و سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا جبکہ سعودی ولی عہد نے کہا کہ روس اپنے تعلقات کی بنیاد پر مثبت اور مستحکم کردار ادا کر سکتا ہے۔

خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی مزدور شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت نے غیر ملکی شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان کے شہری شامل ہیں۔

بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق دو ہزار چوبیس میں خلیجی ریاستوں میں چوبیس ملین سے زائد غیر ملکی کارکنان کام کر رہے تھے، جو خطے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اکثر سب سے زیادہ غیر محفوظ طبقہ سمجھے جاتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث طویل علاقائی جنگ اور عالمی معاشی و سلامتی اثرات کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں