اسپورٹس ڈیسک (ایم این این): پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی پر قومی اسکواڈ کے ہر کھلاڑی پر پانچ ملین روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پیر کے روز ای ایس پی این کرک انفو نے رپورٹ شائع کی۔
رپورٹ کے مطابق جرمانے کا تعلق کسی تادیبی خلاف ورزی سے نہیں بلکہ میچوں میں ناقص کارکردگی سے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ گروپ مرحلے میں بھارت کے خلاف اکسٹھ رنز سے شکست کے فوراً بعد کیا گیا، جہاں ٹیم کی کارکردگی انتہائی کمزور رہی۔
کھلاڑیوں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لیتا تو جرمانے معاف کیے جا سکتے تھے۔ تاہم ٹیم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت اقدامات کیے ہیں، تاہم زیادہ تر کارروائیاں تادیبی نوعیت کی ہوتی تھیں۔ اس بار ٹیم کے اندر کسی قسم کے نظم و ضبط کے مسائل سامنے نہیں آئے، اس لیے محض کارکردگی کی بنیاد پر جرمانہ عائد کرنا ایک غیر معمولی اور ممکنہ طور پر بے مثال اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے سپر ایٹ مرحلے میں کینڈی میں سری لنکا کے خلاف پانچ رنز سے کامیابی حاصل کی، تاہم اس کے باوجود وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔ اس سے قبل گرین شرٹس کسی بڑی ٹیم کو شکست دینے میں بھی ناکام رہے تھے، جس کے باعث ان کی کوالیفیکیشن کی امیدیں متاثر ہوئیں۔
ٹیم کی ٹورنامنٹ سے رخصتی کے بعد کپتان سلمان آغا نے اعتراف کیا کہ پوری ٹیم نے مجموعی طور پر کمزور کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ والے لمحات میں فیصلوں کی ناکامی کے باعث ٹیم سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکی۔
تاہم انہوں نے اپنی کپتانی کے مستقبل کے حوالے سے کوئی جذباتی فیصلہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔
پی سی بی کے اس فیصلے پر ماہرین اور شائقین کرکٹ کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا کارکردگی کی بنیاد پر مالی جرمانے عائد کرنا قومی ٹیم کی بہتری کے لیے مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔


