ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس میں تحقیقات وسیع کرنے کا مطالبہ- بھارتی سفارتی عملے پر سنگین الزامات

0
1

نیوز ڈیسک (ایم این این)- کینیڈا میں سکھ برادری کی نمائندہ تنظیموں نے ایک اخباری رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وینکوور میں تعینات بھارتی قونصل خانے کے اہلکار سنہ دو ہزار تئیس میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ملوث تھے۔

ورلڈ سکھ آرگنائزیشن آف کینیڈا نے کہا کہ دی گلوب اینڈ میل میں شائع ہونے والی رپورٹ نے انہیں شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ بھارتی قونصل خانے کے عملے نے نجر کے قتل میں مدد دینے کے لیے معلومات فراہم کیں۔

رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ وینکوور میں بھارتی قونصل خانے کا ایک ویزا افسر، جسے بھارت کے خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ سے منسلک بتایا گیا، نے نجر کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ یہ معلومات نئی دہلی میں موجود ایک اور اہلکار کو دی گئیں، جس نے مبینہ طور پر بشنوئی گینگ نامی مجرمانہ گروہ سے رابطہ کیا۔

ذرائع کے مطابق کینیڈا میں موجود گینگ کے ایک رکن نے نجر کے قتل کے انتظامات میں مدد کی۔ نجر کو جون دو ہزار تئیس میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک سکھ گردوارے کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بھارت کی وزارت خارجہ اور ٹورنٹو میں موجود قونصل خانے نے فوری طور پر اس رپورٹ پر تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم وزارت خارجہ کے سیکریٹری پیریاسامی کمارن نے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کسی بھی سرحد پار تشدد یا منظم جرائم میں ملوث ہونے کے دعووں کو قطعی طور پر رد کرتا ہے اور یہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں۔

ورلڈ سکھ آرگنائزیشن نے ان الزامات کو کینیڈا کی خودمختاری اور سکھ کینیڈین شہریوں کی سلامتی پر سنگین حملہ قرار دیا اور وزیر اعظم مارک کارنی سے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کا دائرہ صرف مبینہ حملہ آوروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان افراد تک بھی بڑھایا جائے جنہوں نے مبینہ طور پر اس کارروائی کی ہدایت کی۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مارک کارنی بھارت کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ سکھ کارکنان نے اس دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات کو تجارتی مفادات پر قربان کیا جا رہا ہے۔

ہردیپ سنگھ نجر خالصتان تحریک کے نمایاں رہنما تھے جو بھارت کے صوبہ پنجاب میں ایک آزاد سکھ ریاست کے قیام کی حامی ہے۔ ان کے قتل کے چند ماہ بعد سابق کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ حکومت بھارت سے ممکنہ تعلق کے معتبر الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

بھارت نے نجر کے قتل میں کسی بھی کردار کی تردید کی ہے اور کینیڈا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خالصتان تحریک کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے، جسے بھارت اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

سنہ دو ہزار چوبیس میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے اعلان کیا تھا کہ وہ کینیڈا میں سنگین جرائم، بشمول بھتہ خوری اور قتل، میں بھارتی سرکاری ایجنٹوں کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق خالصتان حامی کارکنوں کے خلاف درجنوں قابل اعتبار جان لیوا خطرات کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا اور بھارت قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے کے معاملات پر تعاون جاری رکھیں گے۔ تاہم انہوں نے جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے نجر کیس سے متعلق مخصوص الزامات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں