اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے منگل کی شب جاری بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں آنکھوں کے عارضے کے فالو اَپ کے طور پر طبی معائنہ کیا گیا جس میں ان کی بینائی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین اور قریبی اہل خانہ کی موجودگی کے بغیر کیا جانے والا کوئی بھی طبی معائنہ شفافیت اور ساکھ سے محروم ہے۔
پیمز انتظامیہ کے مطابق میڈیکل بورڈ میں الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی کے شعبہ ویٹریو ریٹینل کے سربراہ ڈاکٹر ندیم قریشی اور پیمز اسلام آباد کے شعبہ امراض چشم کے سربراہ ڈاکٹر ایم عارف خان شامل تھے۔ یہی ٹیم گزشتہ ماہ بھی اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کر چکی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ معائنہ اینٹی وی ای جی ایف کی دوسری انٹرا ویٹریئل انجکشن کے بعد فالو اَپ کے طور پر کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے دونوں آنکھوں کی بصری صلاحیت کا جائزہ لیا اور فنڈوسکوپی، سلٹ لیمپ معائنہ اور آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی جیسے ٹیسٹ کیے۔
میڈیکل بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور موجودہ مرحلے پر یہ تسلی بخش ہے۔ مزید دیکھ بھال اور علاج کے لیے پہلے سے طے شدہ ہدایات جاری کی گئیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے ردعمل میں کہا کہ کئی ماہ سے بانی پی ٹی آئی کی صحت، آزاد طبی رسائی اور اہل خانہ کی نگرانی میں معائنے سے متعلق سنگین خدشات موجود ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں معائنہ کرایا جائے۔
پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ اہل خانہ کی خواہش کے مطابق انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ آزاد، شفاف اور جامع طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے۔ پارٹی کے مطابق اس سے کم کوئی بھی انتظام قابل قبول نہیں ہوگا۔
عمران خان کی آنکھوں کا عارضہ رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن جنوری کے اواخر میں منظر عام پر آیا تھا۔ چوبیس جنوری کو ان کا پہلا طبی عمل ہوا جس کی سرکاری تصدیق میڈیا رپورٹس کے چند روز بعد کی گئی۔
ان کے وکیل سلمان صفدر نے بعد ازاں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ حراست کے دوران عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کافی متاثر ہوئی ہے۔ پندرہ فروری کو پانچ رکنی میڈیکل ٹیم نے اڈیالہ جیل میں ابتدائی معائنہ کیا جبکہ چوبیس فروری کو انہیں فالو اَپ کے لیے پیمز لایا گیا جہاں دوسری انجکشن دی گئی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ٹی آئی حکومت پر عدم شفافیت اور مناسب علاج کی عدم فراہمی کا الزام عائد کرتی ہے جبکہ حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
گزشتہ ماہ چودہ سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں، جن میں بھارتی کرکٹ کے نامور کھلاڑی سنیل گواسکر اور کپل دیو بھی شامل تھے، نے عمران خان کے لیے جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور انہیں کرکٹ کا بہترین آل راؤنڈر قرار دیا تھا۔


