عاصم منیر نے پاک افغان امن کو طالبان کی دہشت گردوں کی حمایت ترک کرنے سے مشروط قرار دے دیا

0
1

راولپنڈی (ایم این این): چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کریں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے جاری کردہ بیان کے مطابق انہوں نے یہ بات جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے دورے کے دوران کہی، جہاں انہوں نے مغربی سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل نے اس امر کو دہرایا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی ختم کریں۔

دورے کے موقع پر انہوں نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔

انہیں سیکیورٹی ماحول، جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور سرحدی انتظامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں آپریشن غضب لی الحق کی پیش رفت اور پاک افغان سرحد پر حالیہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اگلے مورچوں پر تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور جاری جھڑپوں کے دوران ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، چوکسی اور بلند حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ان کے عزم کی تعریف کی۔

بیان میں کہا گیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور سرحد پار سے آنے والے خطرات کو ختم کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔

فتنہ الخوارج سے مراد کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گرد ہیں جبکہ فتنہ الہندوستان کی اصطلاح بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

فیلڈ مارشل نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد پر تعینات فارمیشنز مکمل طور پر تیار، ہم آہنگ اور ہر چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد ترکی اور قطر نے ثالثی کی کوششیں کیں۔

دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں عارضی جنگ بندی ہوئی جبکہ بعد کے ادوار میں صرف عملدرآمد کی نگرانی کے طریقہ کار پر عمومی اتفاق ہوا اور تیسرے دور میں کوئی ٹھوس معاہدہ طے نہ پا سکا۔

22 فروری کو پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد افغان طالبان نے سرحدی حملے کیے۔

اس کے جواب میں پاکستان نے 26 فروری کو آپریشن غضب لی الحق شروع کیا۔ ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے حالیہ بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اس آپریشن کو جلد ختم کرنے کے موڈ میں نہیں اور افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد پناہ گاہوں کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کابل قابل تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتا کہ وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی معاونت ختم کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا، “کارروائیاں اس وقت ختم ہوں گی جب افغان طالبان حکومت قابل تصدیق یقین دہانی دے گی، ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔”

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں