پشاور (ایم این این): خیبر پختونخوا کے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر بی پی ایس گیارہ کی بھرتی کے عمل میں تاخیر اور مبینہ من پسند تقرری کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس پر انتظامی غفلت کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
زون پانچ کے لیے مذکورہ آسامی سن 2021 میں مشتہر کی گئی تھی، تاہم تحریری امتحان 15 فروری 2025 کو لیا گیا، جو اشتہار کے تین سال بعد منعقد ہوا۔
امیدوار ابراہیم علی بلوچ نے 100 میں سے 92 نمبر حاصل کر کے نہ صرف اپنے زون بلکہ پورے صوبہ خیبر پختونخوا میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
امتحان میں نمایاں کامیابی کے باوجود انہیں انٹرویو کے لیے کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں انہوں نے انصاف کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت کی ہدایت پر محکمہ ایکسائز نے 13 جنوری 2026 کو انٹرویو لیٹر جاری کیا اور 21 جنوری 2026 کو انٹرویو منعقد ہوا، جس میں امیدوار پیش ہوئے۔
تاہم انٹرویو مکمل کرنے کے باوجود انہیں تاحال تقرری کا خط جاری نہیں کیا گیا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ آسامی کسی اور مبینہ من پسند امیدوار کو دی جا رہی ہے، جس سے شفافیت اور میرٹ کے اصولوں پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد صوبے میں سرکاری بھرتیوں کے نظام اور گورننس کے معیار پر تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے۔


