نیوز ڈیسک (ایم این این) – آذربائیجان نے جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے چار ڈرون سرحد عبور کر کے نخچیوان کے علاقے میں داخل ہوئے جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے، جس کے بعد باکو نے جوابی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے۔
آذربائیجانی حکام کے مطابق ڈرونز کی دراندازی کے بعد ملک نے جنوبی فضائی حدود کا ایک حصہ بارہ گھنٹوں کے لیے بند کر دیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ایک ڈرون نخچیوان بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ٹرمینل عمارت سے ٹکرا گیا جو ایرانی سرحد سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ دوسرا ڈرون ایک قریبی گاؤں میں اسکول کے نزدیک گرا۔
آذربائیجان کی فوج نے ایک ڈرون مار گرایا جبکہ ایک اور ڈرون سے شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
زخمی ہونے والے چار افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کو اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا اور کہا کہ مسلح افواج کو مناسب جوابی اقدامات کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اس طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی دشمن قوت کے خلاف اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے آذربائیجانی ہم منصب جیحون بیراموف سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آذربائیجان کی جانب کوئی حملہ نہیں کیا۔
انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کے لیے اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرتا۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایران سے فوری وضاحت طلب کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو احتجاجی مراسلہ بھی تھما دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔
ادھر پاکستان نے ترکی اور آذربائیجان کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
پاکستان نے ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تحمل، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب نے بھی ان مبینہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایران کا یہ رویہ خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
دریں اثنا سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنایا تھا۔
ماہرین کے مطابق آذربائیجان تیل اور گیس پیدا کرنے والا ایک اہم ملک ہے اور اس کی توانائی کی برآمدات باکو تبلیسی جیہان پائپ لائن کے ذریعے ترکی اور یورپ تک پہنچتی ہیں، اس لیے کسی بھی حملے سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔


