ایندھن بچت اقدامات پر غور- ورک فرام ہوم اور فاصلاتی تعلیم کی تجویز

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – وفاقی حکومت نے اصولی طور پر 8 مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ شروع کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے مختلف اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں ورک فرام ہوم اور فاصلاتی تعلیم بھی شامل ہیں۔

یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پیٹرول قیمتوں اور خطے کی صورتحال کی نگرانی کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد ایک قومی ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے جو جمعہ کو وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد اسے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے باضابطہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق معاملے کی اہمیت کے پیش نظر جمعہ کو مسلسل اجلاس منعقد ہوں گے جبکہ ہنگامی منصوبے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں ایندھن کے استعمال میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر اور بجٹ پر دباؤ کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کورونا وبا کے دوران بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے تھے اور اب صحت سے متعلق پابندیوں کے علاوہ دیگر اقدامات جیسے ورک فرام ہوم، فاصلاتی تعلیم اور کار پولنگ کو دوبارہ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور توانائی کے شعبے کی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش ہیں اور فوری طور پر کسی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔

تاہم عالمی توانائی کی صورتحال کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی سپلائی چینز اور بحری راستوں میں بڑھتے خطرات کے پیش نظر محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے۔

اجلاس کو عالمی تیل منڈیوں کی صورتحال، فریٹ اور انشورنس اخراجات، بحری راستوں اور اہم گزرگاہوں پر ممکنہ رکاوٹوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی نے مختلف سپلائی اور قیمتوں کے منظرناموں کا جائزہ لیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملکی توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھا جا سکے۔

حکام نے کہا کہ عالمی منڈی میں جنگی پریمیم اور توانائی کے کارگو کے لیے بڑھتی ہوئی مسابقت پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی روابط کے ذریعے متبادل ذرائع اور بحری راستوں سے تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

پاکستان پہلے ہی سعودی عرب سے درخواست کر چکا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کے متبادل راستے کے ذریعے تیل کی فراہمی میں مدد فراہم کرے۔

اجلاس میں ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی اقدامات پر غور کیا گیا اور صوبائی حکومتوں کو اوگرا اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کی ہدایت دی گئی۔

کمیٹی نے مائع پیٹرولیم گیس اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی صورتحال، شپمنٹ شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز کا بھی جائزہ لیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی سپلائی چینز متاثر ہو رہی ہیں اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں