اسلام آباد/پشاور (ایم این این) – وزیراعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی تشویشناک صورتحال پر گفتگو کی اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے تحمل اور سفارتی کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی حالیہ صورتحال بھی زیر بحث آئی اور دونوں ممالک نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے آئندہ دنوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان فوج نے چار اور پانچ مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اکتالیس ٹھکانوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں چمن، ژوب، نوشکی اور قلعہ عبداللہ کے سرحدی علاقوں میں کی گئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے جبکہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے قندھار میں افغان طالبان کے دو سو پانچ کور کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو بھی تباہ کر دیا جبکہ ایک اسلحہ گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ چھاؤنی میں گورنر کاٹیج پر نامعلوم سمت سے داغے گئے میزائل کے نتیجے میں دو شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے سے گورنر کاٹیج کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ ڈپٹی کمشنر کمپاؤنڈ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک نقصان اور جانی ہلاکتوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق دھماکے کی آواز پورے میران شاہ اور گردونواح میں سنی گئی جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے دونوں افراد شہری تھے جو حملے کے وقت قریب موجود تھے۔
ادھر ڈیرہ اسماعیل خان میں اعجاز شہید پولیس لائنز کے اوپر مشتبہ ڈرونز بھی دیکھے گئے جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر فائرنگ کر کے انہیں مار گرانے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق دو ڈرون حساس سیکیورٹی زون میں داخل ہوئے تھے تاہم فائرنگ کے باوجود وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے بعد پولیس لائنز اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ ڈرونز کے مقصد اور اصل کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ افغان طالبان پاکستان کے خدشات اور مطالبات سے بخوبی آگاہ ہیں اور اگر وہ جنگ بندی یا مذاکرات چاہتے ہیں تو انہیں قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔
گزشتہ روز آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کرے۔


