پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے حکومت کا سخت اقدام، صوبوں کو پمپوں کی نگرانی کا حکم

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – وفاقی حکومت نے جمعرات کے روز تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ پیٹرول پمپوں کی باقاعدہ نگرانی اور جسمانی معائنہ یقینی بنایا جائے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو روکا جا سکے۔

حکومت نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں پیٹرول پمپوں اور ایندھن کے ذخائر کی باقاعدہ جانچ پڑتال کریں۔

دوسری جانب حکومت نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ بائیس کے افسر حامد یعقوب شیخ کو پیٹرولیم ڈویژن کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا ہے۔ یہ عہدہ گزشتہ چند ماہ سے خالی تھا۔ حامد یعقوب شیخ اس سے قبل سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری منصوبہ بندی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ حال ہی میں وہ سیکریٹری قومی غذائی تحفظ کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے ایک بیان میں عوام کو یقین دلایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر قومی ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی ہیں اور گھبراہٹ میں خریداری یا ذخیرہ اندوزی کی ضرورت نہیں۔

حکام کے مطابق حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ پندرہ روزہ نظام کو تبدیل کر کے ہفتہ وار نظام متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اندازوں کے مطابق اگر آٹھ مارچ سے ہفتہ وار قیمتوں کا نظام نافذ کیا گیا تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں پچیس سے پچاس روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکومت تیل کی درآمدات یقینی بنانے کے لئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مکمل مالی تحفظ فراہم کرنے اور ایندھن کے استعمال میں کمی کیلئے سرکاری و نجی اداروں میں گھر سے کام کی پالیسی پر بھی غور کر رہی ہے۔

اوگرا کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش ہیں اور مقررہ معیار کے مطابق موجود ہیں۔

اوگرا نے خبردار کیا کہ کسی بھی فرد یا ادارے کو غیر قانونی طور پر پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے یا غیر مجاز مقامات پر رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایسے مقامات کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔

ادارے کے مطابق بعض عناصر حالات کا فائدہ اٹھا کر ناجائز منافع کمانے کے لئے ایندھن ذخیرہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لئے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے سخت نگرانی کو یقینی بنائیں۔

اوگرا کی ٹیمیں فیلڈ میں آئل ڈپو اور پیٹرول پمپوں کا معائنہ بھی کر رہی ہیں تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ یا بے ضابطگی نہ ہو۔

اوگرا نے عوام کو مشورہ دیا کہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور معمول کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات استعمال کریں کیونکہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال مستحکم ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں تاہم اگر جنگ طویل ہو گئی تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لئے سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے متبادل راستے کے ذریعے تیل کی ترسیل کی سہولت فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست بھی کی ہے۔

دوسری جانب آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن پاکستان نے اوگرا کے چیئرمین کو خط لکھ کر مقامی ریفائنریوں کی جانب سے طے شدہ سپلائی وعدوں سے انحراف پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خط کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے گزشتہ جائزہ اجلاس میں طے شدہ سپلائی کے وعدوں کے مطابق اپنی حکمت عملی بنائی تھی اور اسی بنیاد پر درآمدی کارگو کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم رواں ماہ ریفائنریوں نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے ایک نیا الاٹمنٹ نظام متعارف کرا دیا جس کے تحت محدود مقدار میں مصنوعات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اس صورتحال کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس موجود اکیس روزہ لازمی ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

خط میں خبردار کیا گیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ایندھن کے ذخائر جلد ہی نازک سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے اوگرا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرے اور ریفائنریوں کو طے شدہ سپلائی کے وعدوں پر عملدرآمد کا پابند بنائے جبکہ خلاف ورزی کرنے والی ریفائنریوں کے خلاف سخت کارروائی اور بھاری جرمانے عائد کئے جائیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں