ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی خبروں کی تردید، عالمی توانائی کی ترسیل متاثر

0
4

نیوز ڈیسک (ایم این این): ایران نے واضح کیا ہے کہ اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بند نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے بند کرنے کا کوئی فوری ارادہ ہے، تاہم خطے میں جاری جنگ کے باعث جہاز رانی کی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا گیا اور اگر ایران ایسا کوئی فیصلہ کرے گا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ “ہم نے آبنائے ہرمز بند نہیں کی۔ اگر ہم اسے بند کرنے کا فیصلہ کریں گے تو اس کا اعلان کریں گے۔ فی الحال ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ایران خلیج فارس میں ایک ذمہ دار طاقت ہے اور خطے میں استحکام اور جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی تقریباً ایک ہفتے سے جاری جنگ نے خطے سے باہر بھی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ آبی راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔

اگرچہ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز بند نہیں کی گئی لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 37 آئل ٹینکر اس راستے سے گزرتے تھے تاہم بدھ کے روز یہ تعداد کم ہو کر صفر رہ گئی۔

اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک قیمتوں میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع جاری رہا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت متاثر رہی تو چند ہفتوں میں خلیجی ممالک توانائی کی برآمدات روکنے پر مجبور ہو سکتے ہیں اور تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث قطر نے پیر کے روز مائع قدرتی گیس کی پیداوار عارضی طور پر روک دی تھی۔ قطر کی ایل این جی پیداوار عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد ہے جو ایشیا اور یورپ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سعد الکعبی نے یہ بھی کہا کہ قطر انرجی کے نارتھ فیلڈ توسیعی منصوبے میں تاخیر ہو سکتی ہے جو 2026 کے وسط میں پیداوار شروع کرنے والا تھا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کئی ماہ تک متاثر رہ سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارنے کے لیے ان کی حفاظت کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ آبی گزرگاہ صرف توانائی کی ترسیل کے لیے ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک کی خوراک کی فراہمی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو درآمد ہونے والی تقریباً 70 فیصد خوراک اسی راستے سے گزرتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں