ٹرمپ کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ، مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کر گئی

0
2

نیوز ڈیسک (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے مؤقف کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے۔

انہوں نے لکھا کہ “ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا سوائے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے۔ اس کے بعد ایک قابل قبول قیادت کے انتخاب کے بعد ہم اور ہمارے اتحادی ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لا کر اسے معاشی طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط بنائیں گے۔”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ کچھ ممالک نے جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران خطے میں پائیدار امن کے لیے پرعزم ہے لیکن اپنے قومی وقار اور خودمختاری کے دفاع سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔

یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی دن مارے گئے۔

اس کے بعد یہ تنازع پورے خطے میں پھیل گیا اور ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

ٹرمپ نے ایک اور متنازع بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکہ کو ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں کردار ادا کرنے کا حق ہونا چاہیے، حالانکہ ایران میں یہ منصب مذہبی علما کی ایک کونسل منتخب کرتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں اور بیروت کے جنوبی علاقوں کو خالی کرانے کے بعد شدید فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ حملے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈ مراکز اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔

حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے ردعمل میں اس ہفتے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے۔

شدید بمباری کے باعث لبنان میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی ہے۔ نارویجن ریفیوجی کونسل کے مطابق صرف چار دن میں تقریباً تین لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

بے گھر ہونے والے افراد میں سے بہت سے لوگ سڑکوں، ساحلوں اور گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

بیروت کے رہائشی جمال سیف الدین نے بتایا کہ “ہم سڑکوں پر سو رہے ہیں، کچھ لوگ گاڑیوں میں ہیں اور کچھ فٹ پاتھ پر۔ ہمارے پاس کمبل تک نہیں۔”

اس دوران اسرائیل نے ایران کے اندر بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کے تقریباً 50 جنگی طیاروں نے تہران میں سپریم لیڈر کے تباہ شدہ کمپاؤنڈ کے نیچے واقع ایک بنکر کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں ایران کے تقریباً 80 فیصد فضائی دفاعی نظام اور 60 فیصد سے زائد میزائل لانچر تباہ کر دیے گئے ہیں۔

تاہم ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے بدستور جاری ہیں جن کا ہدف اسرائیل کے علاوہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور سعودی عرب شامل ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق روس ایران کو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کی معلومات فراہم کر رہا ہے تاکہ ایران اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ بڑے دفاعی ٹھیکیداروں کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ اسلحے کی پیداوار میں تیزی لانے پر غور کیا جا سکے۔

جنگ کے انسانی اثرات بھی سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایران میں کم از کم 1,230 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 123 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 680 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ جنگ کے پہلے دن ایک امریکی حملے میں ایران کے ایک گرلز اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں متعدد بچے جاں بحق ہوئے۔ امریکی فوجی تفتیش کار اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم ابھی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

جنگ کے پھیلاؤ اور سفارتی کوششوں کے غیر یقینی مستقبل کے باعث خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت پر اثرات کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں