ایرانی حملوں کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سیکیورٹی صورتحال پر اہم مشاورت

0
5

نیوز ڈیسک (ایم این این) – پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتہ کے روز سعودی عرب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان السعود سے ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ نے مملکت سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع کے ساتھ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے اثرات پر بات چیت کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث پیدا ہونے والی سنگین سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران گزشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ان حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ بلا اشتعال جارحیت خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور اس طرح کے اقدامات تنازعات کے پرامن حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ برادر اسلامی ملک ایران دانشمندی اور بردباری کا مظاہرہ کرے گا اور کسی بھی ممکنہ غلط اندازے سے گریز کرتے ہوئے بحران کے پرامن حل کے لیے کوشش کرنے والے دوست ممالک کی حمایت کرے گا۔

اس سے قبل سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس ملاقات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں سعودی عرب پر ایرانی حملوں اور انہیں روکنے کے لیے درکار اقدامات پر گفتگو کی گئی۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایسے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی غلط فیصلے سے گریز کرے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور کثیر جہتی تعلقات موجود ہیں جو دفاعی تعاون، معاشی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر مبنی ہیں۔ سعودی عرب ماضی میں بھی پاکستان کو مالی امداد اور توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے سعودی عرب کے خلاف ایران کے ممکنہ مزید شدید حملوں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔

علاقائی کشیدگی کے باعث ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان نے اپنی تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب سے متبادل راستہ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ ینبع بندرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں