نیوز ڈیسک (ایم این این) – ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہفتہ کے روز ہمسایہ ممالک پر حالیہ حملوں پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں داخلی سطح پر ہونے والی ایک “غلط فہمی” کا نتیجہ تھیں اور ایران آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کرے گا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ خطاب میں صدر پزشکیان نے بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر اسی روز ہونے والے تازہ حملوں کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ ممالک سے معذرت کی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ “میں ایران کی جانب سے حملے کا نشانہ بننے والے ہمسایہ ممالک سے معافی چاہتا ہوں۔”
صدر پزشکیان نے کہا کہ وہ یہ معافی ذاتی حیثیت میں بھی مانگ رہے ہیں اور ایرانی ریاست کی طرف سے بھی۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے جب تک کہ ان ممالک کی جانب سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ “عبوری قیادت کونسل نے گزشتہ روز اتفاق کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک پر مزید کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا اور کوئی میزائل فائر نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ان ممالک کی جانب سے ایران پر حملہ نہ ہو۔”
تاہم ایرانی صدر نے امریکا کی جانب سے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا مطالبہ حقیقت سے دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ “امریکا کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ ایک ایسا خواب ہے جسے وہ اپنی قبر تک لے جائیں۔”
صدر پزشکیان نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اسرائیل اور امریکا کے سامنے ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گا جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ اٹھائیس فروری کو اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے کیے تھے جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے اور اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا۔
اس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران میں ایک عبوری قیادت کونسل قائم کی گئی ہے جس کے تین اہم ارکان میں صدر مسعود پزشکیان بھی شامل ہیں۔
اپنے خطاب میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کا مقصد ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صرف اپنے دفاع میں کارروائی کرنا ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ “میں اپنی جانب سے اور ایران کی طرف سے ان ہمسایہ ممالک سے معافی چاہتا ہوں جو ایران کے حملوں کا نشانہ بنے۔”
ایرانی قیادت کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں خطے میں مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔


