ایران جنگ کے باعث امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

0
7

نیوز ڈیسک (ایم این این): امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث عالمی تیل اور ایندھن کی برآمدات متاثر ہونے سے امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جس سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد ایک ہفتے کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے نے پہلے ہی مہنگائی سے متاثر امریکی صارفین پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ
“اگر قیمتیں بڑھتی ہیں تو بڑھنے دیں۔”

ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز پر توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور امریکا میں تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے کا وعدہ کیا تھا، مگر ان کے دور میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا۔

اگرچہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور توانائی کا بڑا برآمد کنندہ بھی ہے، لیکن زیادہ استعمال کے باعث اسے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل درآمد بھی کرنا پڑتا ہے۔

امریکی موٹر سواروں کی تنظیم AAA کے مطابق جمعہ کے روز ملک میں عام پیٹرول کی اوسط قیمت 3.32 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو ایک ہفتے کے دوران 11 فیصد اضافہ ہے اور ستمبر 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

اسی طرح ڈیزل کی اوسط قیمت 4.33 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو ایک ہفتے میں 15 فیصد اضافہ ہے اور نومبر 2023 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے معاشی اور سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں