صدر شی جن پنگ کا فوج میں سیاسی وفاداری مضبوط بنانے اور دفاعی جدیدکاری تیز کرنے پر زور

0
8

بیجنگ (شِنہوا/ایم این این): چین کے صدر شی جن پنگ نے فوج میں سیاسی وفاداری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی دفاع اور مسلح افواج کی جدیدکاری کو مستقل اور مستحکم انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

شی جن پنگ، جو چینی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں، نے یہ بات چین کی قومی مقننہ 14ویں نیشنل پیپلز کانگریس کے چوتھے اجلاس کے دوران پیپلز لبریشن آرمی اور پیپلز آرمڈ پولیس فورس کے وفد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں چھ ارکان اسمبلی نے فوجی ترقی اور اصلاحات سے متعلق اپنی آراء پیش کیں۔ ان کی باتیں سننے کے بعد صدر شی جن پنگ نے اہم خطاب کرتے ہوئے فوج میں نظم و ضبط اور سیاسی وفاداری کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ 2012 میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد سے پارٹی قیادت نے غیر معمولی عزم کے ساتھ فوج میں سیاسی اصلاحات اور وفاداری کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

صدر شی نے خبردار کیا کہ فوج میں ایسے افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے جو پارٹی کے وفادار نہ ہوں یا بدعنوانی میں ملوث ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں کرپشن کے خلاف مہم کو مزید سختی سے جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 15ویں پانچ سالہ منصوبہ (2026 تا 2030) کے آغاز پر سخت نگرانی کے نظام قائم کیے جائیں اور مالی معاملات، اختیارات کے استعمال اور منصوبوں کے معیار جیسے اہم شعبوں کی مؤثر نگرانی کی جائے۔

شی جن پنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوج میں پارٹی کی قیادت اور پارٹی تنظیموں کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پارٹی کی قیادت کو عملی ترقی کی طاقت میں تبدیل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ افسران اور جوانوں میں نظریاتی بنیاد مضبوط کی جائے تاکہ وہ پارٹی کی رہنمائی پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے فرائض انجام دیں۔ جدید ہتھیار اور فوجی سازوسامان صرف ان اہلکاروں کے حوالے کیے جائیں جو سیاسی طور پر مضبوط اور وفادار ہوں۔

صدر شی نے مشترکہ فوجی کارروائیوں، نئی قسم کی جنگی قوتوں، اعلیٰ سائنسی و تکنیکی جدت اور اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک انتظام کے لیے اہلکاروں کی منظم تربیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے پارٹی اور فوج کی روایتی اقدار اور نظم و ضبط کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین ژانگ شینگ من بھی اجلاس میں شریک تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں