اوپن اے آئی کی ہارڈویئر سربراہ کیٹلن کیلینووسکی کا استعفیٰ، پینٹاگون معاہدے پر تحفظات

0
5

نیوز ڈیسک (ایم این این) – کیٹلن کیلینووسکی نے اوپن اے آئی میں ہارڈویئر ڈویلپمنٹ کی سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اس کی وجہ کمپنی کے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ حالیہ مصنوعی ذہانت سے متعلق معاہدے پر اپنے تحفظات کو قرار دیا ہے۔

کیٹلن کیلینووسکی نے ہفتہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کمپنی نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو پینٹاگون کے خفیہ کلاؤڈ نیٹ ورکس پر تعینات کرنے کے فیصلے سے پہلے کافی غور و فکر نہیں کیا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ مصنوعی ذہانت قومی سلامتی کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کے استعمال کے بعض پہلوؤں پر زیادہ احتیاط اور تفصیلی بحث کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کی عدالتی نگرانی کے بغیر نگرانی اور انسانی اجازت کے بغیر مہلک خودکار نظاموں کا استعمال ایسے معاملات ہیں جن پر زیادہ سنجیدہ غور و فکر ہونا چاہیے تھا۔

کیٹلن کیلینووسکی نے مزید کہا کہ کمپنی کی جانب سے پینٹاگون کے ساتھ معاہدے کا اعلان اس وقت کیا گیا جب اس کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات اور اصول واضح طور پر طے نہیں کیے گئے تھے۔

انہوں نے اس معاملے کو بنیادی طور پر ادارہ جاتی نظم و نسق سے متعلق مسئلہ قرار دیا۔

اپنے ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسے اہم فیصلے جلد بازی میں نہیں کیے جانے چاہییں کیونکہ ان کے اثرات بہت دور رس ہو سکتے ہیں۔

کیٹلن کیلینووسکی نے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سام آلٹمین اور کمپنی کی ٹیم کے لیے احترام کا اظہار بھی کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے اعلان سے قبل ضروری حفاظتی حدود واضح ہونا ضروری تھا۔

ادھر اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ پینٹاگون کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

کمپنی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کی پالیسی کے تحت اس کی ٹیکنالوجی کو نہ تو اندرون ملک نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مکمل خودکار ہتھیاروں کے نظام کے طور پر۔

کمپنی نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ان حساس معاملات پر لوگوں کی مختلف آراء موجود ہیں اور اس حوالے سے ملازمین، حکومتوں، سول سوسائٹی اور عالمی برادری کے ساتھ مکالمہ جاری رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ کیٹلن کیلینووسکی سن دو ہزار چوبیس میں اوپن اے آئی میں شامل ہوئی تھیں۔ اس سے قبل وہ میٹا پلیٹ فارمز میں آگمینٹڈ ریئلٹی ہارڈویئر کی ترقی کے شعبے کی قیادت کر چکی ہیں۔

ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے باعث اس ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال، نگرانی اور اخلاقی حدود کے بارے میں عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں