نیوز ڈیسک (ایم این این) – برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اتوار کے روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ایک روز قبل امریکی صدر نے برطانوی وزیر اعظم پر ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کی مبینہ طور پر کم حمایت کرنے پر سخت تنقید کی تھی۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خطے میں اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے برطانیہ اور امریکا کے درمیان رائل ایئر فورس کے اڈوں کے استعمال کے حوالے سے تعاون پر بات چیت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پیدا ہونے والی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور دفاعی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
تاہم بیان میں صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر کی گئی حالیہ تنقید کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔ امریکی صدر نے ایک پیغام میں کہا تھا کہ “ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں۔”
گفتگو کے دوران وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکی صدر اور عوام سے تعزیت بھی کی۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں دوبارہ رابطہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
یہ رابطہ اس وقت ہوا جب ایران سے متعلق جنگی صورتحال پر واشنگٹن اور لندن کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔
امریکی صدر نے ہفتے کے روز برطانیہ کو یہ بھی کہا تھا کہ امریکا کو اس تنازع میں برطانوی مدد کی ضرورت نہیں، حالانکہ امریکی افواج ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فضائی اڈوں کا استعمال کر رہی ہیں۔
ادھر اس معاملے نے برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کے اندر بھی اختلافات کو جنم دیا ہے جب سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ برطانیہ کو ابتدا ہی سے امریکا کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔
ایک نجی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ٹونی بلیئر نے کہا کہ اگر امریکا آپ کا اہم اتحادی ہے تو جب اسے مدد کی ضرورت ہو تو برطانیہ کو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
ان کے اس بیان پر لیبر پارٹی کے کئی رہنماؤں نے تنقید کی۔ برطانوی وزیر داخلہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ برطانیہ کو عراق جنگ کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی ذمہ داری ہے کہ وہ برطانوی عوام کے مفادات کے مطابق خارجہ پالیسی مرتب کریں۔
اسی دوران برطانوی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ امریکا کے چار بی ون لینسر بمبار طیارے برطانیہ کے رائل ایئر فورس کے ایک اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔
یہ طیارے گلوسٹر شائر میں واقع رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈے پر تعینات کیے گئے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی کارروائیاں کی جا سکیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک طیارہ جمعہ کی شام جبکہ مزید تین ہفتہ کی صبح اس اڈے پر پہنچے۔
یہ تعیناتی اس وقت سامنے آئی جب واشنگٹن نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں آئندہ دنوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کو ایک اور معاملے پر بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ لیبر پارٹی کے تقریباً بیس ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کے دور میں ہونے والی پالیسیوں پر معافی مانگے اور ممکنہ طور پر فلسطینیوں کو معاوضہ دینے پر غور کرے۔
برطانیہ اوز فلسطین نامی مہم کے تحت وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ برطانیہ کو فلسطین کے انتظام کے دوران ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
خط میں کہا گیا کہ برطانیہ نے 1948 میں اقوام متحدہ کے منصوبے کے تحت فلسطین کو تقسیم کر کے ایک ایسی سرزمین حوالے کر دی جس پر اسے حق حاصل نہیں تھا۔
اسی فیصلے کے نتیجے میں اسرائیل کے قیام اور پہلی عرب اسرائیل جنگ کا آغاز ہوا جو آج تک جاری اسرائیل فلسطین تنازع کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔
خط پر لیبر پارٹی کے 18 ارکان پارلیمنٹ اور ایوان بالا کے ایک رکن نے دستخط کیے ہیں جن میں پارٹی کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنما جان مکڈونل اور رچرڈ برگن بھی شامل ہیں۔
یہ رہنما ماضی میں سابق لیبر لیڈر جیریمی کوربن کی شیڈو کابینہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو اپنی تاریخی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ماضی کی پالیسیوں پر معذرت کرنی چاہیے۔
یہ تنازع اس وقت مزید اہم ہو گیا جب برطانوی حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
اگرچہ اس اقدام کے بعد اگلے مہینے جنگ بندی طے پا گئی تھی، تاہم اس فیصلے کو بعض حلقوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال برطانوی حکومت کے لیے ایک مشکل سفارتی اور سیاسی چیلنج بن چکی ہے جہاں اسے ایک جانب اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے اور دوسری جانب داخلی سیاسی دباؤ اور تاریخی تنازعات سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔


