مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر

0
7

نیوز ڈیسک (ایم این این) – مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا، جو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں مارے گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد پورا مشرق وسطیٰ جنگی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔

ایرانی علما نے اتوار کو مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا۔ اب انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کو اس کی 47 سالہ تاریخ کے سب سے بڑے بحران میں قیادت فراہم کرنا ہوگی۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی عوامی انتخاب نہیں لڑا، تاہم وہ کئی دہائیوں سے اقتدار کے اعلیٰ حلقوں میں بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے طاقتور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ساتھ قریبی روابط بھی قائم کیے ہوئے ہیں اور انہیں گزشتہ چند برسوں سے اپنے والد کا ممکنہ جانشین تصور کیا جا رہا تھا۔

ان کی تقرری سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے سخت گیر حلقے اب بھی مضبوط پوزیشن میں ہیں، جس کے باعث جنگ کے دوران فوری طور پر کسی سفارتی معاہدے یا مذاکرات کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگان نے کیا جو 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے اور آئینی طور پر سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے تقریباً 37 سال ایران پر حکمرانی کی تھی۔ انہوں نے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے بعد اقتدار سنبھالا تھا جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے رہنما تھے۔ خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں امریکا اور اسرائیل کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کی نئی قیادت کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کا نیا رہنما امریکا کی منظوری کے بغیر زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔

ایرانی حکام نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی قیادت کا فیصلہ صرف ایرانی عوام کریں گے۔

ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مستقبل کا فیصلہ صرف ایرانی قوم کرے گی۔

UPDATED

تہران، ایران (ایم این این) – ایران میں اعلیٰ مذہبی رہنماؤں نے اشارہ دیا ہے کہ ملک میں جلد نئے سپریم لیڈر کے نام کا اعلان کیا جا سکتا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے دوران سیاسی مشاورت جاری ہے۔

ایران کے بااختیار ادارے مجلس خبرگان کے ارکان نئے رہنما کے انتخاب پر غور کر رہے ہیں۔ یہ عمل سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی 28 فروری کو تہران میں ہلاکت کے بعد شروع ہوا۔

مجلس خبرگان کے رکن محمد مہدی میرباقری نے کہا کہ نئے رہنما کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا جا رہا ہے تاکہ فیصلہ ملک کے اندر متنازع نہ بنے۔ ان کے مطابق اکثریت کسی ایک رائے پر متفق ہو چکی ہے تاہم کچھ رکاوٹیں ابھی باقی ہیں۔

سابق سپریم لیڈر کے دوسرے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اس منصب کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے کیونکہ انہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے بااثر کمانڈروں کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب مذہبی رہنما احمد علم الہدی نے کہا کہ ممکن ہے فیصلہ ہو چکا ہو اور جلد اس کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے۔

گارڈین کونسل کے سینئر رکن عباس کعبی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی زندگی میں کسی مخصوص جانشین کا نام نہیں دیا تھا بلکہ صرف نئی قیادت کے لیے چند بنیادی خصوصیات بیان کی تھیں جن میں مالی دیانت داری، 1979 کا ایرانی انقلاب کے اصولوں پر یقین اور امریکا و اسرائیل کے خلاف مضبوط موقف شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ تقرری پر اعتراض کیا ہے جبکہ اسرائیل نے ایران میں حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تہران اور قم سمیت مختلف شہروں میں اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ خامنہ ای کے سابق چیف آف اسٹاف اصغر حجازی تہران میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے، تاہم ایران نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں ان علاقائی ممالک سے معذرت کی جنہیں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب سخت گیر حلقوں نے مجلس خبرگان سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل کو تیز کیا جائے۔ مذہبی رہنما حسین نوری ہمدانی نے کہا کہ فوری فیصلہ دشمنوں کو مایوس کرنے اور قومی اتحاد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

ادھر اصلاح پسند اور قدامت پسند دھڑوں کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ سابق صدر محمد خاتمی نے خامنہ ای کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

دریں اثنا سابق صدور حسن روحانی اور محمود احمدی نژاد بھی قیادت کے معاملے پر زیادہ تر خاموش ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق احمدی نژاد حال ہی میں ایک قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔

اسی دوران اسرائیلی حملوں میں تہران کے ایندھن ذخائر اور آئل ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے دارالحکومت میں دھوئیں کے بادل پھیل گئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں