عالمی ایندھن بحران کے باعث وزیر اعظم شہباز شریف کا ملک گیر کفایتی اقدامات کا اعلان

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ایندھن بحران کے پیش نظر ملک بھر میں سخت کفایتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ بحران امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث پیدا ہوا ہے جس نے عالمی تیل کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے بڑھتی ہوئی عالمی تیل قیمتوں کے اثرات سے نمٹنے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے آئندہ دو ماہ کے لیے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔

اعلان کردہ اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے پیٹرول الاؤنس میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ تاہم ایمبولینسوں اور پبلک بسوں کو اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری محکموں کے زیر استعمال ساٹھ فیصد گاڑیوں کو دو ماہ کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ آئندہ دو ماہ تک اپنی تنخواہیں نہیں لے گی جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں پچیس فیصد کمی کی جائے گی۔

اسی طرح گریڈ بیس کے ان سرکاری افسران کی دو دن کی تنخواہ بھی کاٹی جائے گی جو ماہانہ تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔

حکومت نے تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں بیس فیصد کمی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ سرکاری دفاتر کے لیے نئی گاڑیاں، فرنیچر، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر غیر ضروری اشیاء کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے وزراء، مشیروں اور سرکاری حکام کے غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی لگا دی ہے، تاہم قومی مفاد کے لیے ضروری دوروں کو اجازت دی جا سکے گی۔

ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اجلاسوں کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے۔

اس کے علاوہ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سیمینار اور کانفرنسیں اب ہوٹلوں کے بجائے سرکاری عمارتوں میں منعقد کی جائیں گی۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں پچاس فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں چار دن کھلے رہیں گے۔ تاہم ضروری خدمات کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی جبکہ ملک بھر کے اسکولوں کو اس ہفتے کے اختتام سے دو ہفتوں کی تعطیلات دی جائیں گی۔

وزیر اعظم نے تیل ذخیرہ کرنے اور ناجائز منافع خوری کرنے والوں کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم نے کہا کہ پورا خطہ اس وقت جنگی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور پاکستان اس بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے اور مسلح افواج چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی قیادت میں اس صورتحال سے نمٹ رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی جن کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے۔

ساتھ ہی انہوں نے ایران کی جانب سے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، عمان، کویت، بحرین اور آذربائیجان پر کیے گئے جوابی حملوں کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے پورے خطے کے امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور پاکستان ان ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے اور اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک سے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے حکومت کو معیشت کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑے۔

وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم حکومت نے عوام پر بوجھ کم رکھنے کے لیے درمیانی راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن حکومت اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے معیشت کو سنبھالا گیا، مہنگائی میں کمی آئی اور روپے کی قدر میں استحکام آیا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ آئندہ بھی عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ملک میں اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں