نیوز ڈیسک (ایم این این) – خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں پاک افغان سرحد کے قریب خوازئی علاقے کے اٹہ بازار کے نزدیک واقع ایک پولیس چوکی پر نامعلوم مسلح افراد نے رات گئے گرینیڈ اور فائرنگ سے حملہ کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کی رات نامعلوم حملہ آوروں نے محرر پولیس چوکی پر دستی بم پھینکا اور فائرنگ شروع کر دی۔ چوکی پر تعینات اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی فائرنگ کی۔
چند لمحوں تک فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔
واقعے کے بعد پورے ضلع میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور تمام پولیس چوکیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ضلع مہمند کے سرحدی علاقوں پر مارٹر گولے بھی داغے گئے۔
ذرائع کے مطابق پیر کی صبح تقریباً تین بج کر دس منٹ پر بائزئی پولیس اسٹیشن کو اطلاع ملی کہ سرحد پار سے دو مارٹر گولے فائر کیے گئے ہیں۔
یہ گولے فرنٹیئر کور کی ایک چوکی اور اتم کلی پولیس چیک پوسٹ سے کچھ فاصلے پر گرے۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر شمالی وزیرستان کے غلام خان کے قریب سرحدی علاقوں میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ صبح کے وقت شروع ہوا اور دوپہر تک جاری رہا۔
سرحدی علاقوں میں کشیدگی اور خوف کے باعث قریبی دیہات کے کئی افراد محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے لگے ہیں جبکہ علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
واضح رہے کہ پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے فائرنگ اور کشیدگی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جس سے سرحدی آبادی متاثر ہوتی ہے۔
شمالی وزیرستان میں غلام خان بارڈر کراسنگ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور آمد و رفت کا ایک اہم راستہ ہے، تاہم موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث یہ راستہ مکمل طور پر بند ہے۔
دریں اثنا سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے سرحد پار کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں واقع شاہین بیس کے اسلحہ ڈپو کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے شوال کے قریب واقع افغان طالبان کی ایک چوکی کو بھی نشانہ بنایا گیا جسے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجو فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
پاکستان کی فوج آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ آپریشن چھبیس فروری کو افغانستان کی جانب سے مبینہ بلا اشتعال فائرنگ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس آپریشن کے آغاز سے اب تک پانچ سو تراسی افغان طالبان ہلاک جبکہ سات سو پچانوے زخمی ہو چکے ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج دو سو بیالیس افغان طالبان چوکیوں کو تباہ کر چکی ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔


