لاہور / پشاور (ایم این این) – پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے جاری علاقائی کشیدگی اور عالمی ایندھن بحران کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور اخراجات میں کمی کے لیے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ایک جامع منصوبے کی منظوری دی ہے جس کا مقصد صوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم کرنا اور فراہمی کو مستحکم بنانا ہے۔
نئے فیصلوں کے تحت صوبائی وزراء کو مفت پیٹرول کی فراہمی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ وزراء اور سینئر حکام کے ساتھ اضافی پروٹوکول گاڑیوں کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب ان کے ہمراہ صرف ایک سکیورٹی گاڑی چلنے کی اجازت ہوگی۔
حکومت نے ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت صرف ضروری عملہ دفاتر میں حاضر ہوگا جبکہ دیگر ملازمین گھر سے کام کریں گے۔
توانائی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے صوبے بھر کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس دوران آن لائن کلاسز جاری رکھی جا سکیں گی جبکہ امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
پنجاب حکومت نے تمام سرکاری بیرونی تقریبات بھی معطل کر دی ہیں جبکہ لاہور ہارس اینڈ کیٹل شو، جو 28 مارچ سے شروع ہونا تھا، اسے بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ضلعی سطح پر پیٹرولیم نگرانی کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور تقسیم کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام تیار کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ صوبے بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کی سخت نگرانی کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ بحران کے دوران ناجائز منافع خوری کو روکا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری خریداری اور ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں، غیر ضروری تقریبات محدود کریں اور مشکل وقت میں ذمہ داری اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے بھی دو ماہ کے لیے ایندھن کی بچت سے متعلق اقدامات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی کابینہ نے “فیول کنزرویشن اینڈ ریسپانسبل گورننس انیشیٹو” کی منظوری دی جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کے لیے پیٹرول الاؤنس میں پچیس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ چونکہ کورونا وبا کے دوران پہلے ہی پچیس فیصد کمی نافذ تھی، اس طرح مجموعی کمی پچاس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
تاہم پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کمی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری محکموں میں پچاس فیصد ورک فرام ہوم پالیسی بھی متعارف کرائی ہے جبکہ بیشتر سرکاری اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں گے۔
صوبائی کابینہ نے وی آئی پی پروٹوکول گاڑیوں اور سرکاری ہیلی کاپٹروں کے استعمال میں بھی کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ غیر ضروری تقریبات اور سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔
حکام کے مطابق پیٹرول پمپس کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی کٹائی کے موسم میں کسانوں کو ڈیزل کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی تاکہ زرعی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
دونوں صوبائی حکومتوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد معیشت کا تحفظ کرنا اور وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے جبکہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے گا۔


