آبنائے ہرمز پر امریکی دھمکیوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا سخت جواب دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ عاشورا سے محبت کرنے والی ایرانی قوم کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس سے بھی زیادہ طاقتور قوتیں ایرانی قوم کو ختم کرنے کی کوشش کر چکی ہیں مگر ناکام رہیں، اس لیے دھمکیوں سے ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

علی لاریجانی نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات دینے سے پہلے امریکا کو اپنے انجام کے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی کسی بھی کوشش پر سخت کارروائی کی دھمکی کے بعد سامنے آیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے اس اہم سمندری راستے سے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت ردعمل دے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی آمدورفت روکنے کی کوئی کوشش کی تو امریکا اسے پہلے کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ سختی سے نشانہ بنائے گا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایسے مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے جنہیں آسانی سے تباہ کیا جا سکتا ہے اور جن کی تباہی کے بعد ایران کے لیے بطور ریاست دوبارہ تعمیر کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورتحال ایران کے لیے موت، آگ اور تباہی کا سبب بن سکتی ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات اس حد تک نہیں پہنچیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مسلسل ترسیل چین سمیت کئی بڑے درآمدی ممالک کے مفاد میں ہے جو توانائی کی فراہمی کے لیے اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ امریکا نے ایران کے اندر حملوں میں شدت لانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ منگل کا دن ایران کے اندر امریکی حملوں کے حوالے سے اب تک کا سب سے شدید دن ہو سکتا ہے۔

اسی بریفنگ میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ نے کہا کہ ایران کے میزائل حملوں میں تقریباً نوے فیصد کمی آ چکی ہے۔

ادھر ایران نے منگل کو اسرائیل اور خلیجی ممالک پر نئے ڈرون حملے کیے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق نو ڈرون ملک میں گرے جس کے نتیجے میں مزید دو افراد ہلاک ہوگئے۔

بحرین کے حکام کے مطابق ایک ایرانی حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے۔

سعودی عرب نے کہا کہ اس نے اپنے تیل سے مالا مال مشرقی علاقے کے اوپر دو ڈرون تباہ کر دیے جبکہ کویت کی نیشنل گارڈ نے چھ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ان تازہ واقعات نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بڑھتی تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں