اسرائیل کا دعویٰ، ایرانی ہیکرز نے جاسوسی کے لیے سکیورٹی کیمروں تک رسائی حاصل کی

0
2

نیوز ڈیسک (ایم این این) – اسرائیل کے قومی سائبر ڈائریکٹوریٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد ایرانی ہیکرز نے جاسوسی کے مقصد سے اسرائیل میں درجنوں سکیورٹی کیمروں تک رسائی حاصل کی ہے۔

اسرائیلی سائبر ادارے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی ہیکرز کی جانب سے نجی نگرانی کے کیمروں کو ہیک کرنے کی متعدد کوششیں سامنے آئی ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں قومی اور ذاتی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اور عوام سے فوری احتیاطی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکام سینکڑوں کیمروں کے مالکان کو آگاہ کر رہے ہیں اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پاس ورڈ تبدیل کریں اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے بچا جا سکے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ برسوں میں سائبر حملے ایک معمول بن چکے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک خفیہ سائبر جنگ جاری رہی جو وقتاً فوقتاً کھلے تصادم میں تبدیل ہوتی رہی ہے۔

یہ کشیدگی گزشتہ سال جون میں کھلے تنازع میں بدلی اور پھر اٹھائیس فروری کو ایک بار پھر حالات شدید ہو گئے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف معلومات حاصل کرنے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے سائبر کارروائیوں کو اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

اسرائیلی سائبر سکیورٹی کمپنی چیک پوائنٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد نگرانی کے کیمروں کو ہیک کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی کیمرے بڑی تعداد میں استعمال ہوتے ہیں مگر اکثر ان کی سکیورٹی کمزور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہیکرز کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

چیک پوائنٹ کے سربراہ برائے سائبر انٹیلی جنس گل میسنگ کے مطابق ہیک کیے گئے کیمروں کی تصاویر ممکنہ طور پر حملوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے یا مخصوص مقامات اور افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایسی معلومات کے ذریعے ہدف بنائے جانے والے افراد کی سرگرمیوں اور مقامات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

گل میسنگ کا کہنا تھا کہ ان سائبر حملوں میں ملوث ہیکرز ایران کے فوجی ڈھانچے کا حصہ ہو سکتے ہیں اور انہیں ریاستی اداروں خصوصاً پاسداران انقلاب اور وزارت انٹیلی جنس کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی سیاست دان بھی سائبر حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

دسمبر دو ہزار پچیس میں سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بتایا تھا کہ ان کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر سائبر حملہ کیا گیا جس کے بعد ہیکرز نے ان کے فون سے حاصل کیے گئے مبینہ نجی پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز ایک ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کر دی تھیں۔

یہ مواد ہنظلہ نامی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا جو فلسطینی کاز کی علامت سمجھے جانے والے کردار کے نام سے منسوب ہے۔

ادھر ایک رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل نے بھی ایران میں سائبر جاسوسی کی کارروائیاں کی ہیں۔

فنانشل ٹائمز کی گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے کئی برسوں تک تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کیا تھا تاکہ اس کارروائی کی تیاری کی جا سکے جس میں حملے کے پہلے دن ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی سائبر جنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید تنازعات میں ڈیجیٹل محاذ بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں