ایندھن بحران کے باعث ملک بھر کی عدالتوں میں چار روزہ ورک ویک، ویڈیو لنک سماعتوں کی حوصلہ افزائی

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والے ایندھن بحران کے پیش نظر پاکستان کی عدالتوں میں کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات کے تحت چار روزہ ورک ویک نافذ کرنے اور ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت اور بڑھتی ہوئی عالمی توانائی قیمتوں کے پیش نظر قومی وسائل کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ میں فوری طور پر پیر سے جمعرات تک کام ہوگا جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہوگی اور یہ فیصلہ آئندہ حکم تک نافذ العمل رہے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ججز اور مجاز افسران کے لیے مختص پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس کے ماہانہ کوٹے میں پچاس فیصد کمی کی جائے گی تاکہ ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائی سکیورٹی زونز میں نقل و حرکت کے دوران اضافی پروٹوکول یا سکیورٹی گاڑیاں تعینات نہیں کی جائیں گی، تاہم متعلقہ ادارے مقررہ ضابطوں کے مطابق روٹ سکیورٹی یقینی بنائیں گے۔

عدالتوں نے مقدمات کے فریقین اور وکلا کو جہاں ممکن ہو ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں میں شرکت کی بھی ترغیب دی ہے تاکہ غیر ضروری سفر اور ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ عدالتی عملے کے لیے جہاں ممکن ہو روٹیشنل حاضری کا نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ آمدورفت کم ہو اور توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ ضروری عدالتی امور بھی جاری رہیں۔

دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے ورچوئل اجلاس کی صدارت کی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسی نوعیت کے اقدامات وفاقی شرعی عدالت، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں بھی نافذ کیے جائیں گے۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے عدالتی کفایت شعاری اور توانائی بچت کی جامع حکمت عملی کی منظوری دی جس کا مقصد قومی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بناتے ہوئے ملک بھر میں انصاف تک بلا تعطل رسائی برقرار رکھنا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقدامات پیٹرولیم سپلائی میں ممکنہ خلل اور عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں عدلیہ کے بروقت اور ذمہ دارانہ ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں