نیوز ڈیسک (ایم این این): امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے جنوبی شہر میناب میں واقع ایک ابتدائی اسکول پر ہونے والا ٹوماہاک میزائل حملہ ممکنہ طور پر غلط ہدف کی نشاندہی کے باعث ہوا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اٹھائیس فروری کو ہونے والے اس حملے کے وقت امریکی فوج قریبی ایرانی فوجی اڈے کو نشانہ بنا رہی تھی، تاہم ہدف کے تعین میں غلطی کے باعث میزائل اسکول کی عمارت پر جا گرا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اس مقام کے قریب واقع ایک ایسے فوجی اڈے کو نشانہ بنا رہی تھی جس کا حصہ ماضی میں وہ عمارت بھی رہی تھی جہاں اب اسکول قائم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حملے کے لیے ہدف کے کوآرڈی نیٹس پرانی معلومات کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے جس کے باعث یہ مہلک غلطی ہوئی۔
اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے افسران نے دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی فراہم کردہ پرانی معلومات کی بنیاد پر ہدف کے کوآرڈی نیٹس تیار کیے تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ عمارت کو اسکول میں تبدیل کیے جانے کے بارے میں معلومات کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس وقت تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کارروائی کی منصوبہ بندی کے دوران پرانی معلومات کیوں استعمال ہوئیں اور کس نے ان معلومات کی درستگی کی تصدیق نہیں کی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ میناب میں واقع ابتدائی اسکول پر ہونے والے اس حملے میں ایک سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم عالمی خبر رساں ادارے اس مقام تک رسائی حاصل نہیں کر سکے جس کے باعث اس واقعے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اسکول ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جانب سے استعمال ہونے والی عمارتوں کے قریب واقع ہے اور ماضی میں یہ مقام فوجی اڈے کا حصہ تھا۔ بعد ازاں دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سولہ کے درمیان اس عمارت کو باڑ لگا کر فوجی اڈے سے الگ کر دیا گیا اور اسے تعلیمی ادارے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں عندیہ دیا تھا کہ ممکن ہے اس حملے کے پیچھے ایران خود ہو، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ تحقیقات جس نتیجے پر پہنچیں گی وہ اسے قبول کر لیں گے۔
بدھ کے روز جب صحافیوں نے دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں سوال کیا تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس رپورٹ کے بارے میں علم نہیں ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس حملے کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے اس حملے میں کسی بھی قسم کے کردار یا پیشگی علم کی سختی سے تردید کی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بناتا۔
حملے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔


