ڈیسک (ایم این این): ایران کے نئے مقرر ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ضرور ہیں تاہم وہ محفوظ اور خیریت سے ہیں۔ یہ بات ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے یوسف پزشکیان نے بدھ کے روز بتائی، جو ان کی تقرری کے بعد پہلی سرکاری وضاحت سمجھی جا رہی ہے۔
یوسف پزشکیان جو حکومتی مشیر بھی ہیں، نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں خبر ملی تھی کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس اطلاع کے بعد انہوں نے چند ایسے افراد سے رابطہ کیا جن کے حکومتی حلقوں سے روابط تھے۔
یوسف پزشکیان کے مطابق ان ذرائع نے انہیں بتایا کہ خدا کا شکر ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ہفتے کے روز ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر تقرری کے بعد سے وہ منظر عام پر نہیں آئے تھے جس پر ان کی صحت اور موجودگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
چھپن سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اس سے قبل زیادہ تر پس پردہ کردار کے طور پر جانے جاتے تھے تاہم وہ ایران کی سیاسی اور مذہبی قیادت میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔
انہیں اس وقت ایران کا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا جب ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق اٹھائیس فروری کو تہران میں ایک کمپاؤنڈ پر ہونے والے اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی والدہ اور اہلیہ بھی جاں بحق ہو گئی تھیں۔
والد کی ہلاکت کے بعد ایران کی طاقتور مذہبی کونسل مجلس خبرگان نے انہیں فوری طور پر ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا۔
تاہم تقرری کے بعد سے اب تک وہ نہ تو عوامی سطح پر نظر آئے ہیں اور نہ ہی کسی عوامی خطاب میں شریک ہوئے ہیں جس کے باعث ان کی صحت کے بارے میں سوالات اٹھ رہے تھے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے انہیں ’’رمضان جنگ کے زخمی مجاہد‘‘ قرار دیا تھا تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تین ایرانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو جنگ کے دوران زخمی ہونے کی وجہ سے ٹانگوں میں چوٹیں آئی ہیں تاہم وہ ہوش میں ہیں اور ایک انتہائی محفوظ مقام پر محدود رابطوں کے ساتھ موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امکان ہے کہ وہ تہران میں ہونے والے اسی فضائی حملے کے دوران زخمی ہوئے ہوں جس میں ان کے والد اور دیگر قریبی رشتہ دار جاں بحق ہوئے تھے۔
اگرچہ وہ عوام کے سامنے نہیں آئے لیکن تہران میں ان کی تصاویر بڑے بڑے بل بورڈز پر آویزاں کر دی گئی ہیں۔
ایک تصویر میں انہیں علامتی طور پر اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای سے قومی پرچم وصول کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی بھی تصویر میں موجود ہیں۔
پیر کے روز تہران کے وسطی علاقے میں حکومت کے حامیوں کے ایک بڑے اجتماع میں بھی ان کی تصاویر اور پوسٹرز اٹھائے گئے جہاں ہزاروں افراد نے نئی قیادت سے وفاداری کا اظہار کیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای خود بھی انیس سو اکیاسی میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے تھے جس کا الزام مخالف گروہ مجاہدین خلق ایران پر عائد کیا گیا تھا۔
اس حملے کے نتیجے میں ان کا ایک بازو زندگی بھر کے لیے جزوی طور پر مفلوج ہو گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای ممکنہ طور پر کچھ عرصے تک عوامی سطح پر نظر نہیں آئیں گے۔
لندن میں قائم بین الاقوامی ادارہ برائے تزویراتی مطالعات کے ماہر ایمیل ہوکائم کے مطابق وہ غالباً ایک محفوظ بنکر میں طویل عرصے تک رہیں گے کیونکہ ابتدائی حملے میں ان کے خاندان کے کئی افراد مارے گئے تھے۔
ان کے مطابق اسرائیل کے لیے ابتدائی مرحلے میں انہیں نشانہ بنانا ترجیح ہو سکتی ہے تاہم اگر وہ اس جنگ میں زندہ رہتے ہیں تو وہ ایرانی نظام کی مضبوطی کی علامت بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے مجتبیٰ خامنہ ای حکومتی معاملات کی ذمہ داری بعض اہم شخصیات کو سونپ دیں۔
ان کے مطابق قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی حکومتی امور سنبھال سکتے ہیں جبکہ پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف جنگی حکمت عملی کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے بعد ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے ان سے وفاداری کا اعلان کیا۔
اس کے علاوہ یمن کے حوثی باغیوں اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے بھی ان کی قیادت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی ایران کو غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اگر انہیں اقتدار میں رہنا ہے تو انہیں امریکا کی منظوری درکار ہوگی، بصورت دیگر وہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکیں گے۔


