وزیر اعظم شہباز شریف مختصر دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اہم ملاقات متوقع

0
2

نیوز ڈیسک (ایم این این): وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات کو مختصر سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔

سرکاری ٹیلی وژن پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے مطابق وزیر اعظم کا طیارہ جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رائل ٹرمینل پر اترا جہاں مکہ ریجن کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے ان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی اور دیگر سفارتی حکام بھی موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کا یہ دورہ چند گھنٹوں پر مشتمل ہوگا جس کے دوران وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق یہ دورہ سعودی ولی عہد کی دعوت پر کیا جا رہا ہے اور ملاقات کے دوران دونوں رہنما خطے میں جاری کشیدگی، سکیورٹی صورتحال اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

مشرق وسطیٰ میں حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب کو ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اہداف کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم ہاؤس نے کہا کہ یہ دورہ عالمی سفارتی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرتا ہے اور پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ خطے میں فوری جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقین پر تین نکات پر زور دے رہا ہے جن میں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری اور بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی بحالی شامل ہیں۔

دریں اثنا وزیر اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان ہر وقت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

اس سے قبل پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف عاصم منیر نے بھی حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کی تھی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق ملاقات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں