اسلام آباد (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے دوران امریکی فوجی طیاروں کی تباہی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
یہ رپورٹ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہوئی تھی جس میں دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر تعینات پانچ امریکی طیاروں کو ایرانی میزائل حملے کے دوران نقصان پہنچا۔
اخبار کے مطابق متاثرہ طیارے بوئنگ سی ایک سو پینتیس اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بردار طیارے تھے جو لڑاکا اور بمبار طیاروں کو پرواز کے دوران ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ میزائل حملے کے وقت یہ طیارے زمین پر موجود تھے اور اسی دوران انہیں نقصان پہنچا۔
پرنس سلطان ایئر بیس سعودی دارالحکومت ریاض سے تقریباً ستر کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے لیے ایک اہم فوجی تنصیب سمجھا جاتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں کیے گئے دعوے درست نہیں ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ چند روز قبل اس اڈے پر حملہ ضرور ہوا تھا، تاہم طیاروں کو نہ تو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی وہ تباہ ہوئے۔
ٹرمپ کے مطابق پانچ میں سے چار طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا تھا اور وہ دوبارہ سروس میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ پانچواں طیارہ نسبتاً زیادہ متاثر ہوا لیکن اسے بھی مرمت کے بعد جلد دوبارہ فعال بنا دیا جائے گا۔
انہوں نے اخبار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض میڈیا ادارے ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے امریکہ جاری تنازع میں نقصان اٹھا رہا ہو۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سیاسی محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی فضائیہ کو حال ہی میں ایک الگ واقعے کا بھی سامنا کرنا پڑا جب سی ایک سو پینتیس اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بردار طیاروں کے دو جہاز ایک آپریشن کے دوران آپس میں ٹکرا گئے۔ اس حادثے کے نتیجے میں ایک طیارہ تباہ ہو گیا جبکہ اس میں سوار چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ان واقعات نے خطے میں بڑے فضائی آپریشنز کے دوران فوجی طیاروں کو درپیش خطرات پر ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی ہے۔


