نیوز ڈیسک (ایم این این): چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کریں۔
چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق وانگ ای نے دونوں ممالک سے کہا کہ وہ موجودہ کشیدگی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کریں اور فوری طور پر آمنے سامنے مذاکرات شروع کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری جنگ بندی کی کوشش کی جائے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
وانگ ای نے کہا کہ طاقت کے مزید استعمال سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
بھارت میں چین کے سفیر شو فی ہونگ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس ٹیلیفونک رابطے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
چینی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان نے جمعہ کے روز افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان سے منسلک معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق وانگ ای نے کہا کہ بیجنگ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر، افغانستان سمیت، ایران میں امن کے قیام کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔
افغان طالبان کے دو ہزار اکیس میں کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسلام آباد بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد پناہ گاہوں کو ختم کرے، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے خلاف کارروائی کرے، تاہم پاکستانی حکام کے مطابق ان مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی سولہ فروری کو ضلع باجوڑ میں افغان سرحد کے قریب مشترکہ سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد ایک بار پھر بڑھ گئی تھی۔ تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے مالنگی چیک پوسٹ پر حملہ کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے کے بعد بارود سے بھری گاڑی چوکی کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی تھی۔
اس حملے کے نتیجے میں گیارہ پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے جبکہ ایک کمسن بچی بھی جاں بحق ہو گئی تھی۔ دھماکے سے قریبی رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا جس کے باعث خواتین اور بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے تھے۔
تحقیقات کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت اماد عرف قاری عبداللہ یا ابو زر کے نام سے ہوئی جو افغان صوبہ بلخ سے تعلق رکھنے والی طالبان کی خصوصی فورس کا رکن بتایا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
اس کے بعد اکیس فروری کو خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی ایک کارروائی کے دوران خودکش حملے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہو گئے تھے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دہشت گرد افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں جو کہ مقدس مہینے رمضان کی حرمت کی بھی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایسے بزدلانہ حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور انہیں جہاں بھی ہوں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انیس فروری کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا تھا کہ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان افغانستان کے اندر کارروائی کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا اور فوجی آپشن اب بھی موجود ہیں۔
گزشتہ برس نومبر میں افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں بمباری کی اور کنڑ اور پکتیکا کے صوبوں میں فضائی حملے کیے۔
اس وقت پاکستان نے ان حملوں کی نہ تصدیق کی تھی اور نہ ہی تردید کی تھی۔ یہ اطلاعات اسی دن سامنے آئی تھیں جب فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے ایک مہلک خودکش حملے میں تین اہلکار شہید اور بارہ زخمی ہو گئے تھے۔
یہ مبینہ حملے پاک افغان سرحد پر ہونے والی شدید جھڑپوں کے تقریباً ایک ماہ بعد رپورٹ ہوئے تھے۔ فوج کے مطابق ان جھڑپوں میں تئیس پاکستانی فوجی شہید جبکہ دو سو سے زائد طالبان اور ان سے وابستہ دہشت گرد مارے گئے تھے۔
فوج کے مطابق گیارہ اور بارہ اکتوبر دو ہزار پچیس کی درمیانی شب افغان طالبان اور بھارت کی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج نے پاک افغان سرحد کے ساتھ بلا اشتعال حملہ کیا تھا جس کے بعد شدید جھڑپیں شروع ہوئیں۔


