نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کئی ممالک نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی بحری اتحاد میں شامل ہونے کے لیے “راستے میں ہیں”، جبکہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیاں اور خطے کی سلامتی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ متعدد ممالک نے اس مشن میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ اس حوالے سے باضابطہ اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا، “متعدد ممالک نے مجھے بتایا ہے کہ وہ آرہے ہیں۔ کچھ بہت پرجوش ہیں اور کچھ کم دلچسپی رکھتے ہیں۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کون سے ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ ہوئے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ فی الحال ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کے بحری جہاز روانہ بھی ہو چکے ہیں لیکن انہیں منزل تک پہنچنے میں وقت لگے گا کیونکہ بعض کو سمندر پار سفر کرنا پڑتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے ایران پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملوں کا فیصلہ بڑی حد تک اپنی ذاتی رائے اور محدود سفارتی مشاورت کے تحت کیا تھا۔ اب جنگ کے معاشی اور جغرافیائی سیاسی اثرات سامنے آنے کے بعد واشنگٹن دیگر ممالک سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس تنازع کا مرکزی نقطہ آبنائے ہرمز ہے جو ایران اور جزیرہ نما عرب کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے۔ دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً 20 سے 30 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی توانائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
ابتدائی طور پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کو اس راستے سے گزارنے کی ذمہ داری خود سنبھالے گی، تاہم بعد میں انہوں نے دیگر ممالک کو بھی اس مشن میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جنگی جہاز اس اتحاد میں شامل کریں۔ انہوں نے نیٹو کے رکن ممالک اور ان تمام ممالک کو بھی دعوت دی جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ کئی ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن اب تک کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔
اس کے برعکس کئی ممالک نے واضح طور پر اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ آسٹریلیا، جاپان، پولینڈ، سویڈن اور اسپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز نہیں بھیجیں گے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی کہا کہ برلن اس مشن میں فوجی طور پر شامل نہیں ہوگا تاہم سفارتی کوششوں کی حمایت کر سکتا ہے۔
برطانیہ اور جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ برطانیہ خطے میں موجود بارودی سرنگوں کی تلاش کرنے والے ڈرونز فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے لیکن وہ وسیع جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
فرانس نے نسبتاً زیادہ آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ان ممالک پر تنقید بھی کی جو اس مشن میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ایسے ممالک بھی ہیں جنہیں امریکہ برسوں سے فوجی تحفظ فراہم کرتا رہا ہے لیکن وہ اس اقدام میں دلچسپی نہیں دکھا رہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک جہاں امریکہ کے تقریباً 45 ہزار فوجی تعینات ہیں، اس نے بھی بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانا صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے کیونکہ عالمی توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 40 سے 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں کیونکہ ایرانی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ ایشیا کی بڑی معیشتیں خصوصاً چین، جاپان اور جنوبی کوریا اسی راستے سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔
چین نے حال ہی میں 2026 کے لیے اپنی اقتصادی ترقی کی شرح کا ہدف کم کر کے 4.5 سے 5 فیصد کر دیا ہے جو 1991 کے بعد سب سے کم متوقع شرح ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔


