اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے پیر کے روز وزیر اعظم شہباز شریف سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹوں کو پاکستان آ کر اپنے قید والد سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
جمائما گولڈ اسمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان نے جنوری میں پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کے لئے دوبارہ درخواست دی تھی تاکہ وہ اپنے والد عمران خان سے ملاقات کے لئے پاکستان آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قونصل خانے کے مطابق آن لائن ویزا پراسیسنگ عموماً سات سے دس کام کے دنوں میں مکمل ہو جاتی ہے، تاہم اب ساٹھ دن گزرنے کے باوجود ان کے بیٹوں کو ویزا جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ویزا کے اجرا میں یہ تاخیر اس وقت ہو رہی ہے جب کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے عوامی طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ سلیمان خان اور قاسم خان چار برس بعد محفوظ طریقے سے پاکستان آ کر اپنے والد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ جمائما کے مطابق وزیر اعظم کے غیر ملکی میڈیا کے ترجمان مشرف زیدی نے بھی اسی نوعیت کی یقین دہانی کرائی تھی۔
جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ ان کے بیٹوں کو نہ صرف پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی بلکہ انہیں اپنے والد سے فون پر بات کرنے یا خط بھیجنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بیٹوں نے اپنے والد کو آخری مرتبہ دو ہزار بائیس میں دیکھا تھا جب عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور وہ زخمی ہو گئے تھے۔
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دونوں بیٹوں کو جلد از جلد اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی جائے، خاص طور پر اس صورت حال میں جب اطلاعات کے مطابق عمران خان کی صحت بھی خراب ہو رہی ہے۔
اس معاملے پر جب حکومتی مؤقف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا تو وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اس وقت دنیا میں اس سے زیادہ اہم مسائل موجود ہیں۔
گزشتہ ماہ قاسم خان نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ حکومت جان بوجھ کر ان اور ان کے بھائی کے ویزا کی درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی۔ قاسم خان اور سلیمان خان نے دسمبر دو ہزار پچیس میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان آنے کے لئے ویزا درخواستیں جمع کرا دی ہیں اور وہ جنوری میں پاکستان کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں خبریں سامنے آئیں کہ حکومت عمران خان کے بیٹوں کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر رہی ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے خبردار کیا تھا کہ اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر احتجاج یا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو حکومت انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر سکتی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایک روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلیمان خان اور قاسم خان پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک میں شامل ہو سکتے ہیں۔
بعد ازاں بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت کی تھی کہ حکومت کو عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آنے پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ احتجاج یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔
اگست دو ہزار پچیس میں علیمہ خان نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ عمران خان کے بیٹوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں اور ساتھ ہی پاکستان آنے کے لئے ویزا کے لئے بھی درخواست دی ہے۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی تھی جب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر ان کے پاس اوورسیز شناختی کارڈ موجود ہیں تو انہیں ویزا کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
علیمہ خان نے کہا تھا کہ ایک بھائی کا شناختی کارڈ گم ہو گیا ہے جبکہ دوسرے کو اپنا کارڈ نہیں مل رہا، اسی لئے انہوں نے نئے شناختی کارڈ کے اجرا کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں جو آئندہ چھ سے سات سال کے لئے مؤثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ویزا کے لئے بھی درخواست دی ہے جو ایک گھنٹے کے اندر جاری کیا جا سکتا ہے۔
بعد ازاں دسمبر دو ہزار پچیس میں طلال چوہدری نے کہا تھا کہ انہوں نے علیمہ خان سے سلیمان خان اور قاسم خان کی ویزا درخواستوں کے ٹریکنگ نمبرز مانگے تھے، تاہم انہیں آج تک یہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جو بھی پاکستان آنا چاہتا ہے اسے چند گھنٹوں میں ویزا جاری کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمران خان کے بیٹوں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران نہ تو اپنے اوورسیز شناختی کارڈ کی تجدید کرائی ہے اور نہ ہی ویزا کے لئے باضابطہ درخواست دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ویزا درخواستوں کے ٹریکنگ نمبرز فراہم کر دیے جائیں تو حکومت اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔


