نیوز ڈیسک (ایم این این) – پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پیر کی رات افغانستان کے دارالحکومت کابل اور صوبہ ننگرہار میں افغان طالبان کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں جاری آپریشن غضب لیلحق کے تحت کی گئیں۔
یہ آپریشن 26 فروری کی رات اس وقت شروع کیا گیا تھا جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار سے مبینہ طور پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی تھی۔ اس کے بعد پاکستانی افواج نے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جنہیں حکام کے مطابق سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پیر کی رات ہونے والی کارروائیوں میں کابل میں دو مقامات پر موجود تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ گودام تباہ کر دیے گئے۔
صوبہ ننگرہار میں افغان طالبان کی چار فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے قریب واقع لاجسٹک مراکز، اسلحہ ڈپو اور تکنیکی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ان حملوں میں ایک ڈرون اسمبلنگ ورکشاپ اور وہ ہیڈکوارٹر بھی تباہ کیا گیا جہاں سے مبینہ طور پر ڈرون روانہ کیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ اسلحے کے ذخائر بھی ننگرہار اور کابل میں تباہ کیے گئے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ان ورکشاپس میں تیار ہونے والے ڈرونز میں بھارت اور اسرائیل میں تیار کردہ پرزے استعمال کیے جا رہے تھے۔
رات گئے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق پاکستان ایئر فورس نے کابل اور ننگرہار میں کارروائیاں جاری رکھیں اور دونوں علاقوں میں کم از کم چھ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں متعدد دہشت گرد ہلاک بھی ہوئے۔
اس سے قبل خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے سیکٹر میں بھی سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں کئی خوارج مارے گئے جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ فتنہ الخوارج کی اصطلاح ریاست کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
اسی طرح باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد کے پار افغان طالبان کی چوکیوں کو گائیڈڈ میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
اتوار کے روز بھی افغان صوبہ قندھار میں رات کے وقت کارروائی کرتے ہوئے تکنیکی معاونت کے مراکز اور آلات کے گودام کو تباہ کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والی ایک سرنگ کو بھی تباہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کی جانب سے باجوڑ میں سرحد پار سے توپ خانے اور مارٹر گولوں سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار شہری جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہوا۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔
وزارت کے مطابق پاکستان نے 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں صرف فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے معاون ڈھانچوں کو نشانہ بنایا اور کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئی تاکہ کسی قسم کا شہری نقصان نہ ہو۔
ادھر دفتر خارجہ نے بھی ان خبروں کو مسترد کیا کہ پاکستان نے افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے چین کی پیشکش کو رد کر دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور چین قریبی دوست اور قابل اعتماد شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک اہم امور پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
اس سے قبل چین نے ایک بار پھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ سب سے اہم کام جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسلام آباد متعدد بار کابل حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مراکز کو ختم کیا جائے۔
دریں اثنا خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں بھی سکیورٹی صورتحال کشیدہ رہی جہاں دو افراد کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔
ڈومیل تحصیل میں مسلح افراد نے معروف شخصیت ملک نبی اللہ کو تین دیگر افراد کے ساتھ اغوا کیا، تاہم بعد میں تینوں کو رہا کر دیا گیا جبکہ ملک نبی اللہ کو نامعلوم مقام پر لے جا کر قتل کر دیا گیا۔
اسی طرح بکا خیل کے علاقے میں توچی پل کے قریب نامعلوم افراد نے شازیب خان نامی نوجوان کو اغوا کر کے قتل کر دیا اور اس کی لاش سڑک کنارے پھینک دی۔
پولیس کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر ممکنہ دہشت گرد حملہ بھی ناکام بنا دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھرمل کیمروں کے ذریعے مشکوک نقل و حرکت دیکھنے کے بعد اہلکاروں نے فوری فائرنگ کی جس پر حملہ آور فرار ہو گئے۔
حکام کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث ایک بڑا حملہ ٹل گیا۔


