اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے چین کی پیشکش کو رد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس حوالے سے غیر ضروری قیاس آرائیاں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین قابل اعتماد شراکت دار اور قریبی دوست ہیں اور دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے تمام امور پر باقاعدگی سے قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر مسلسل مشاورت جاری رہتی ہے، اس لئے یہ تاثر دینا کہ پاکستان نے چین کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے، حقائق کے منافی ہے۔
ادھر چین نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی پیشکش کا اعادہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم کام جنگ کے دائرہ کار کو بڑھنے سے روکنا اور دونوں ممالک کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور تعلقات میں بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے اور بیجنگ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔
اس سے قبل چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا تھا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان تنازعات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اس وقت اضافہ دیکھا گیا جب دو ہزار اکیس میں افغان طالبان نے کابل میں اقتدار سنبھالا۔ اسلام آباد مسلسل طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دریں اثنا چھبیس فروری کی رات حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سرحد پار سے افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن غضب لِلحق شروع کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے کرم سیکٹر میں جاری کارروائیوں کے دوران افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جس میں متعدد خوارج ہلاک جبکہ دیگر فرار ہو گئے۔
اسی طرح باجوڑ سیکٹر میں پاک افغان سرحد کے پار افغان طالبان کی چوکیوں کو گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن غضب لِلحق اپنے تمام اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
اتوار کی صبح سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی مسلح افواج نے افغانستان کے صوبہ قندھار میں رات کے وقت کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں کے تکنیکی معاونت کے ڈھانچے اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی ایک اہم تنصیب کو تباہ کر دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی جانب سے استعمال ہونے والی ایک سرنگ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
بعد ازاں عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان نے باجوڑ میں سرحد پار سے توپ خانے اور مارٹر گولوں کے ذریعے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار شہری جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہو گیا۔
دوسری جانب ضلع بنوں میں بھی مبینہ عسکریت پسندوں سے متعلق دو مختلف واقعات میں دو افراد کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔
پہلا واقعہ بنوں کی تحصیل ڈومیل میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے معروف شخصیت ملک نبی اللہ کو تین دیگر افراد کے ساتھ اغوا کر لیا۔ بعد ازاں تین افراد کو رہا کر دیا گیا تاہم ملک نبی اللہ کو نامعلوم مقام پر لے جا کر قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش بعد میں علاقے سے برآمد ہوئی۔
اسی طرح بنوں کے علاقے بکا خیل میں توچی پل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک نوجوان شازیب خان کو اتوار کی رات اس کے گاؤں سے اغوا کیا اور بعد ازاں اسے قتل کر کے لاش سڑک کنارے پھینک دی۔
پولیس کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر دہشت گردوں کے ممکنہ حملے کو بھی ناکام بنا دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اہلکاروں نے تھرمل کیمروں کی مدد سے مشکوک نقل و حرکت کا پتہ لگایا اور فوری فائرنگ کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے ممکنہ حملے کو ناکام بنا دیا۔ حالیہ مہینوں میں بنوں ضلع میں سیکیورٹی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشنز جاری ہیں۔


