ایران جنگ پر اختلاف، امریکی انسداد دہشتگردی کے اعلیٰ عہدیدار کا استعفیٰ

0
2

واشنگٹن (ایم این این) – امریکا کے ایک سینئر انسداد دہشتگردی عہدیدار جوزف کینٹ نے منگل کے روز ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے استعفیٰ میں کینٹ نے کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ جنگ حقیقی خطرے کے بجائے اسرائیل اور اس کے بااثر لابی کے دباؤ پر شروع کی گئی۔

جوزف کینٹ، جو گرین بریٹ اسپیشل فورسز کے سابق رکن رہ چکے ہیں، اس جنگ کے خلاف مستعفی ہونے والے پہلے سینئر امریکی عہدیدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ کی جنگوں کو نقصان دہ اور مہنگا جال قرار دیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام اور امریکی میڈیا کے بعض بااثر حلقوں نے غلط معلومات پر مبنی مہم کے ذریعے “امریکا فرسٹ” پالیسی کو کمزور کیا اور ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

کینٹ نے فوری خطرے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا اور اسے عراق جنگ سے پہلے اپنائی گئی حکمت عملی سے تشبیہ دی، جس کے نتیجے میں امریکا کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جس میں امریکی عوام کا کوئی فائدہ نہ ہو اور جس میں مزید جانوں کا ضیاع ہو۔

وائٹ ہاؤس اور نیشنل انٹیلیجنس کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ انٹیلیجنس حلقے اس پیش رفت پر حیران ہیں۔ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ جنگ کے آغاز کے بعد سے کم ہی منظر عام پر آئی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں