ایران کا قطر کے راس لفان گیس پلانٹ پر حملہ، آگ بھڑک اٹھی، خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ

0
1

نیوز ڈیسک (ایم این این) – قطر کی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے کے بعد ملک کی سب سے بڑی گیس تنصیب میں آگ لگ گئی ہے، جس پر سول ڈیفنس کی ٹیمیں قابو پانے میں مصروف ہیں۔

قطر انرجی نے بیان میں کہا کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملوں کے نتیجے میں “بڑے پیمانے پر نقصان” ہوا ہے، تاہم تمام عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایران نے خلیجی ممالک میں تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جو اسرائیل کی جانب سے اس کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے ردعمل میں دی گئی تھی۔

ایران نے قطر کے میسیعید پیٹروکیمیکل کمپلیکس، میسیعید ہولڈنگ کمپنی اور راس لفان ریفائنری کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

2 مارچ کو بھی راس لفان اور میسیعید میں حملوں کے بعد ایل این جی پیداوار معطل کر دی گئی تھی۔ راس لفان دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی مرکز ہے جو عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فوری طور پر عالمی سپلائی متاثر نہیں ہوگی، لیکن قیمتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار رہے گا، جس سے یورپ، جاپان، ترکیہ اور بھارت جیسے ممالک متاثر ہوں گے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے ریاض کی جانب آنے والے کئی بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی متعدد میزائل اور ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے خطے میں جنگ کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں