ایرانی حملوں سے قطر کی ایل این جی صلاحیت کا 17 فیصد متاثر، 20 ارب ڈالر نقصان کا خدشہ

0
1

ویب ڈیسک (ایم این این) – قطر کی توانائی کی صنعت کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں ایل این جی برآمدی صلاحیت کا تقریباً 17 فیصد متاثر ہوا اور سالانہ 20 ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

قطر انرجی کے سربراہ سعد الکعبی نے بتایا کہ 14 میں سے 2 ایل این جی یونٹس اور ایک گیس ٹو لیکوئڈز پلانٹ حملوں میں متاثر ہوئے ہیں، جس سے آئندہ 3 سے 5 سال تک 12.8 ملین ٹن سالانہ ایل این جی پیداوار متاثر رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے غیر معمولی ہیں اور رمضان کے مہینے میں ایک اسلامی ملک ایران کی جانب سے ایسے اقدامات حیران کن ہیں۔

ان حملوں کے بعد قطر کو اٹلی، بیلجیم، جنوبی کوریا اور چین کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں پر فورس میجر نافذ کرنا پڑ سکتا ہے۔

راس لفان انڈسٹریل سٹی پہلے ہی حملوں کی زد میں آ چکا ہے اور پیداوار بحال ہونے کے لیے خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔

ایکسون موبل اور شیل جیسے عالمی ادارے بھی اس نقصان سے متاثر ہوئے ہیں۔

سعد الکعبی نے خبردار کیا کہ ان حملوں سے خطے کی توانائی صنعت کو 10 سے 20 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

ایل این جی کے علاوہ کنڈینسیٹ، ایل پی جی، ہیلیم، نیفتھا اور سلفر کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جس سے دنیا بھر میں توانائی اور صنعتی شعبے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے تاکہ عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں