ویب ڈیسک (ایم این این) – ہاکان فیدان نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو مزید نہ پھیلائے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
قطر میں وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکیہ امریکہ اور ایران دونوں سے رابطے میں ہے تاکہ صورتحال کو سمجھ کر کشیدگی کم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے ایران کو دوستانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ جنگ کو مزید وسعت نہ دے۔ ان کے مطابق اسرائیل اس جنگ کا بنیادی ذمہ دار ہے، تاہم ایران پر بھی لازم ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہ بنائے۔
دوسری جانب انتونیو گوتریس نے امریکہ اور اسرائیل سے ایران کے خلاف جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور ایران سے کہا کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرے۔
برسلز میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جنگ قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور اس کے عالمی معیشت پر خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ تنازع 28 فروری کو شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت بھی ہوئی۔ اس کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 11 مارچ کو ایران کے حملوں کی مذمت کی، جبکہ روس کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا۔
اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کا بحران اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث۔
انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش دنیا بھر کے لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طاقت کے بجائے قانون اور جنگ کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی جائے۔


