نیتن یاہو کا دعویٰ، ایران کی فوجی صلاحیتیں تباہ، جنگ جلد ختم ہونے کی امید

0
2

ویب ڈیسک (ایم این این) – بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا مقصد اس کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تاکہ وہ زیر زمین محفوظ ہو کر حملوں سے بچ نہ سکیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ مشترکہ طور پر ایران کے میزائل بنانے والے کارخانوں اور صنعتی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام شدید انتشار کا شکار ہو چکا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتیں کمزور ہو گئی ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اس جنگ کا ایک مقصد ایرانی عوام کے لیے ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جس سے وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکی کوششوں میں مدد فراہم کر رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عارضی ہے۔

ایران کی داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ قیادت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں اور مجتبیٰ خامنہ ای سمیت اہم شخصیات منظر عام پر نہیں آ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ان اندرونی اختلافات کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نیتن یاہو نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اکیلے کارروائی کی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر مزید حملے فی الحال روک دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جنگ توقع سے زیادہ جلد ختم ہو سکتی ہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے یا نہیں، کیونکہ انقلاب کے لیے زمینی کارروائی بھی ضروری ہوتی ہے۔

نیتن یاہو نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔

آخر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ 20 دن کی فضائی کارروائیوں کے بعد ایران کی جوہری افزودگی اور میزائل بنانے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں