اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان نے تلسی گبارڈ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی میزائل صلاحیتیں امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اس دعوے کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یہ حقیقت کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام بھارت کے تناظر میں قابلِ اعتماد کم از کم دفاعی حکمت عملی پر مبنی ہے اور اس کی حد بین البراعظمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے میزائل پروگرام سے خطے میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔
سابق نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے بھی اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے میزائل امریکہ تک پہنچنے کی بات حقیقت پر مبنی نہیں۔
انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ پاکستان کی ایٹمی حکمت عملی صرف خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ہے۔
امریکی سینیٹ میں بریفنگ کے دوران تلسی گبارڈ نے کہا تھا کہ کئی ممالک جدید میزائل نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ دہائی میں میزائل خطرات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس فہرست میں شامل کرنا امریکی پالیسی کا تسلسل ہے، جبکہ ماضی میں بھی اس حوالے سے بیانات اور پابندیاں سامنے آ چکی ہیں۔


