یروشلم (ایم این این) – اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور دیگر مذہبی مقامات تک رسائی محدود کیے جانے کے بعد سینکڑوں مسلمانوں نے جمعہ کے روز قدیم شہر یروشلم کے دروازوں پر عیدالفطر کی نماز ادا کی۔
سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پابندیوں کے باعث مسجد اقصیٰ، چرچ آف ہولی سیپلکر اور دیوار گریہ سمیت اہم عبادت گاہوں تک رسائی بند کر دی گئی۔
نمازیوں نے یروشلم کے داخلی راستوں پر پولیس کی سخت نگرانی میں نماز ادا کی، جبکہ انہیں مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس صورتحال کو خاص طور پر رمضان کے آخری دنوں اور عید کے موقع پر انتہائی افسوسناک قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق 1967 میں مشرقی یروشلم کے الحاق کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ رمضان کے آخری عشرے اور عیدالفطر کے دوران مسجد اقصیٰ کو بند کیا گیا ہے۔
نمازیوں نے شہر کے دروازوں سے داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا اور بعض مواقع پر طاقت کا استعمال بھی کیا۔ بعد ازاں کچھ دیر کے لیے ہیرودز گیٹ کے قریب سڑک پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی جہاں امام نے مختصر خطبہ دیا اور مظلوموں کی نصرت کے لیے دعا کی اپیل کی۔
سیکیورٹی خدشات کے باعث ملک بھر میں 50 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں میزائلوں کے ٹکڑے قدیم شہر میں گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
عام حالات میں عید کے موقع پر تقریباً ایک لاکھ افراد مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرتے ہیں، تاہم اس بار صرف چند سو افراد ہی شہر کے باہر جمع ہو سکے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق محدود پیمانے پر نماز کی اجازت دی گئی، لیکن جب ہجوم نے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی تو مداخلت کرنا پڑی۔
دوسری جانب فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ یہ پابندیاں مستقبل میں مقدس مقامات تک رسائی کے قواعد میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ کئی افراد نے مسجد اقصیٰ تک رسائی نہ ملنے کو شدید جذباتی صدمہ قرار دیا۔


