آبنائے ہرمز کشیدگی: ایرانی صدر کا امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل، فیصلہ کن جواب کی وارننگ

0
2

ویب ڈیسک (ایم این این): ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی دھمکیوں کو “مایوسی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی کے دوران کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا نہ رکھے تو امریکی افواج ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو نقشے سے مٹانے کی باتیں دراصل ایک مضبوط قوم کے سامنے کمزوری کی علامت ہیں، اور ایسی دھمکیاں قومی اتحاد کو مزید مضبوط کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے، سوائے ان کے جو ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کریں، اور کسی بھی خطرے کا میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

یہ صورتحال امریکہ۔اسرائیل جنگ برائے ایران کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں دونوں جانب سے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے خطے اور عالمی توانائی رسد کو خطرات لاحق ہیں۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، جو عالمی تیل ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک حساس جوہری تحقیقاتی مقام کے قریب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کہا کہ جانی نقصان نہ ہونا “معجزہ” ہے، حالانکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی جنگی اہداف حاصل کرنے کے قریب ہیں، جن میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو کمزور کرنا شامل ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں اہم توانائی ڈھانچے کو ناقابل واپسی نقصان پہنچایا جائے گا۔

اسلامی انقلابی گارڈ کور نے بھی عندیہ دیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں 48 گھنٹوں کے اندر خطے سے باہر اہم مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں