ویب ڈیسک (ایم این این): امریکہ۔اسرائیل جنگ برائے ایران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور اپنی منفرد سفارتی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو بروئے کار لا کر امن کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
اعلیٰ پاکستانی حکام پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں، جن کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں آرمی چیف عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم رابطہ ہوا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی گفتگو کی۔ ان روابط کے دوران ہی ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
اگرچہ پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امریکی فیصلے کے درمیان براہ راست تعلق واضح نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کو حساس قرار دیتے ہوئے مزید تبصرے سے گریز کیا ہے۔
پاکستان کی غیر جانبدار پالیسی اور ملک میں امریکی فوجی موجودگی نہ ہونے کے باعث اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث سمجھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایرانی حملوں سے بھی محفوظ رہا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترک ہم منصب حاکان فیدان سے رابطہ کیا، جبکہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی بھی اس سفارتی عمل میں شریک ہیں۔
ایرانی حکام نے اگرچہ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں دوست ممالک کے ذریعے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں امریکہ کی جانب سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی گئی۔
حکام کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر فعال پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پائیدار حل کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ تنازع اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام اور عالمی ایندھن بحران میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان نے امن کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔


