نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔
تاہم ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان بیانات کو “جعلی خبریں” قرار دیا۔
دوسری جانب کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایرانی میزائلوں نے تل ابیب اور اس کے اطراف کو نشانہ بنایا، جس سے عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج ایران میں اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایران نے رات بھر بحرین، سعودی عرب اور کویت کو نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط مان لی ہے، تاہم انہوں نے متضاد بیانات دیتے ہوئے کہا کہ جنگ جیت لی گئی ہے لیکن اس کے خاتمے کی یقین دہانی نہیں کر سکتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ہو چکی ہے اور اعلیٰ قیادت کمزور ہو گئی ہے۔
امریکی حکام میں جے ڈی وینس، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات میں شامل ہیں۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے بتایا کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب ایک گولا گرا، تاہم ایران کے مطابق کوئی نقصان نہیں ہوا۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے جوہری سلامتی کے خطرات سے بچنے کے لیے تحمل کی اپیل کی۔
ایران نے حیفہ میں اسرائیلی دفاعی کمپنی کے مقام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ دیگر شہروں میں بھی حملوں کی اطلاع دی۔
ایران نے یہ بھی کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے کئی میزائل اور ڈرون مار گرائے۔
مزید برآں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کو بتایا گیا کہ غیر دشمن جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں بشرطیکہ ایرانی حکام سے رابطہ کریں۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اسرائیل نے ایران کے حالیہ دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔


