حکومت کا موبائل ایپ پر مبنی فیول کوٹہ سسٹم تیار، کم آمدنی والے افراد کیلئے ریلیف کا منصوبہ

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – حکومت نے کم آمدنی والے طبقے کو ہدفی سبسڈی فراہم کرنے اور تیل کے استعمال میں کمی لانے کیلئے موبائل ایپ پر مبنی فیول کوٹہ سسٹم کو حتمی شکل دے دی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت خزانہ، وزارت پیٹرولیم اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر تیار اور آزمائش کے بعد مکمل کیا ہے۔

یہ اسکیم بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں اور رکشوں کیلئے تیار کی گئی ہے، تاہم حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اسے آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں تک بھی توسیع دی جائے یا نہیں۔

اس منصوبے کے تحت فیول کی فراہمی مکمل طور پر خودکار نظام کے ذریعے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے ہوگی۔ پیٹرول پمپ مالکان کیلئے ایک الگ ایپ فراہم کی جائے گی جبکہ صارفین کیلئے بھی علیحدہ ایپ ہوگی۔

ہر پیٹرول پمپ کو اس نظام کیلئے کم از کم دو موبائل فون رکھنا لازمی ہوگا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی موبائل ساز کمپنیوں کے ساتھ مل کر مخصوص فون فراہم کرے گی، جن کی ابتدائی قیمت تقریباً چھتیس ہزار روپے جبکہ مارکیٹ قیمت بہتر ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔

کوٹہ سسٹم کے تحت ہر صارف کا کوٹہ اس کی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر اور قومی شناختی کارڈ سے منسلک ہوگا۔ صارف ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل واؤچر حاصل کرے گا جسے پیٹرول پمپ پر اسکین کر کے تصدیق کی جائے گی۔ اگر صارف مقررہ حد سے زیادہ فیول طلب کرے گا تو صرف اس کے کوٹے کے مطابق ہی فیول فراہم کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق یہ نظام رمضان ریلیف پیکج کے ماڈل کی طرز پر تیار کیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور مؤثر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔

حکومت موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کیلئے سبسڈی فراہم کرے گی اور اس مقصد کیلئے پیٹرول پمپوں پر مخصوص نوزلز مختص کیے جائیں گے۔ چھوٹی گاڑیوں کیلئے سبسڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہر پمپ پر ایک فوکل پرسن مقرر کرنا ہوگا تاکہ نظام کی نگرانی اور صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اس نظام کے استعمال کیلئے تربیتی مواد بھی فراہم کرے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا ہے، جس سے پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

باوجود اس کے کہ معاشی دباؤ موجود ہے، ملک میں ایندھن کی طلب کم نہیں ہوئی، جبکہ قیمتوں کو برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ صرف دو ہفتوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے پر تقریباً ستر ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل سے صارفین کو ایندھن کے محتاط استعمال کا پیغام دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں