نیوز ڈیسک – پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے ایران کی تجاویز امریکا تک پہنچا دی ہیں، جبکہ اس سے قبل امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی تجویز کو تہران نے باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان نے امریکا کی تجویز ایران تک پہنچائی تھی، تاہم ایرانی قیادت نے اس پر منفی ردعمل دیتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اپنی شرائط پر مشتمل پانچ نکاتی منصوبہ تیار کر کے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوا دیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ خود کریں گے اور کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب ایران کی پیش کردہ شرائط پوری کی جائیں گی۔
ایران کی جانب سے پیش کی گئی اہم شرائط میں دشمن کی جانب سے جارحیت اور ٹارگٹ حملوں کا مکمل خاتمہ، مستقبل میں دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت، جنگی نقصانات کا ازالہ، خطے میں تمام محاذوں پر لڑائی کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز پر ایران کے حقِ خودمختاری کا عالمی اعتراف شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی منصوبے کی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکیں، تاہم اطلاعات کے مطابق اس میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں، یورینیم کی افزودگی روکنا، بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنا شامل تھا۔ ایران نے ان نکات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کو ممکنہ طور پر مذاکرات کے لیے مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، تاکہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
پاکستان کی جانب سے اس پیش رفت کے ساتھ ہی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی صدر سے متعدد بار گفتگو کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے بھی عالمی سطح پر اہم رہنماؤں سے رابطے کیے، جن میں خلیجی ممالک کی قیادت شامل ہے، تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کے سفیر نے واضح کیا ہے کہ اب تک امریکا اور ایران کے درمیان کسی قسم کے براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات نہیں ہوئے، اور میڈیا میں آنے والی بعض اطلاعات درست نہیں ہیں۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کی اس پیشکش کو سراہا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک کی قیادت نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ماضی میں بھی اہم سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے، اور موجودہ صورتحال میں بھی وہ دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔


