زیلنسکی کا سعودی عرب کا اچانک دورہ، خلیجی ممالک کی یوکرینی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی

0
1

ریاض (ایم این این) – یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی جمعرات کو بغیر پیشگی اعلان کے سعودی عرب پہنچ گئے، جہاں ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک یوکرین کی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کا ایک معاہدہ متوقع ہے جس میں فضائی حدود کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

یوکرین روس کے خلاف جنگ کے دوران ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کو مار گرانے کے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی ممالک کی مدد کرنا چاہتا ہے کیونکہ انہیں بھی اسی نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق دو سو سے زائد یوکرینی ماہرین کو مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک بشمول سعودی عرب میں تعینات کیا جا چکا ہے تاکہ ڈرون اور میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اہم ملاقاتیں طے ہیں اور جدہ میں ایک علاقائی عہدیدار سے ملاقات کی ویڈیو بھی شیئر کی۔

یوکرین کم لاگت والے ڈرون شکن نظام، الیکٹرانک جامنگ آلات اور فضائی دفاعی ہتھیاروں کو مؤثر حل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

یوکرین نے خلیجی ممالک کو تجویز دی ہے کہ وہ مہنگے فضائی دفاعی میزائلوں کے بدلے اس کے کم لاگت انٹرسیپٹرز حاصل کریں جبکہ خود یوکرین کو روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے مزید وسائل درکار ہیں۔

گزشتہ سال بھی سعودی عرب نے امریکہ، یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی تاکہ دو ہزار بائیس میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کی کوشش کی جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں