ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کے لیے بے صبری کی تردید، دھمکیوں اور سفارتکاری کا امتزاج

0
1

واشنگٹن (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بے صبری کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جلد بازی میں نہیں ہیں اور صورتحال میں دباؤ اور سفارتکاری دونوں طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران شدید دباؤ کا شکار ہے اور معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، تاہم تہران نے اس مؤقف کی تردید کی ہے۔

ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی معاہدے کے لیے بے تاب نہیں بلکہ اس کے برعکس ہیں اور انہیں اس کی کوئی پروا نہیں۔

اجلاس کے دوران انہوں نے ایک جانب ایران کے خلاف سخت کارروائیوں کی دھمکیاں دیں جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہا کہ ایران معاہدے کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جو مذاکرات میں سنجیدگی کا اشارہ ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کے تیل کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ایک ممکنہ آپشن ہو سکتا ہے جس سے امریکی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دیا گیا وقت ختم ہونے والا ہے تاہم اس میں توسیع کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ادھر امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی کہ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو پندرہ نکاتی تجویز بھجوائی ہے اور معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔

ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر بھی تنقید کی کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے تحفظ میں تعاون نہیں کیا جبکہ امریکی حکام نے دباؤ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی امید بھی ظاہر کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں